’مذاکرات کا لائحہ عمل جلد ترتیب دیں گے‘

Image caption ’پھانسیوں پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ حکومت کی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی خواہش کی مظہر ہے‘

تحریک طالبان پنجاب نے وفاقی حکومت کی جانب سے پھانسی کی سزاؤں پر عملدرآمد روکنے اور وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے مذاکرات کی دوبارہ پیشکش کا خیرم مقدم کیا ہے۔

نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بی بی سی اردو کے آصف فاروقی کو دیے گئے انٹرویو میں تحریک طالبان پنجاب کے امیر عصمت اللہ معاویہ نے کہا کہ بہت جلد ان کی شوریٰ کے اجلاس میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ حکومت نے پھانسی کی سزاؤں پر عمل ان کی دھمکی سے مرعوب ہو کر معطل کیا ہے۔ ’پھانسیوں پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ حکومت کی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی خواہش کی مظہر ہے۔‘

عصمت اللہ معاویہ نے کہا کہ حکومت اور بعض اداروں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ رائے کہ پاکستانی شدت پسند مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان سے مذاکرات تکنیکی لحاظ سے ناممکن ہیں، بد نیتی اور کم علمی کا نتیجہ ہے۔

’یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں متعدد گروہ جہاد میں مصروف ہیں اور ان کی کوئی ایک مرکزی تنظیم نہیں ہے۔ لیکن تقریباً تمام گروہوں کی مرکزی قیادت قبائلی علاقوں میں موجود ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ بہت قریبی رابطے میں ہے۔ ایسے میں جب مذاکرات ہوں گے اور اس کے نتیجے میں اگر کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو اس کی پابندی ہر گروہ کرے گا۔‘

تحریک طالبان پنجاب نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کا گروہ تنظیمی لحاظ سے حکیم اللہ محسود کی تحریک طالبان پاکستان کے نظم میں نہیں ہے لیکن وہ حکیم اللہ کے مشوروں کے پابند ہیں۔

’جب کبھی مذاکرات کی بات شروع ہوگی تو اس سے پہلے تمام متحرب گروہ کی آپس میں مشاورت ہو گی اور جو بھی معاہدہ وغیرہ ہوگا وہ بھی مشاورت کے بعد ہی ہو گا۔ اس لیے اس معاہدے پر عمل کے بارے میں حکومت کو کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے۔‘

عصمت اللہ معاویہ کا کہنا تھا کہ ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اس صورتحال کا اچھی طرح ادراک ہے اور وہ جان بوجھ کر کنفیوژن پھیلا رہی ہیں۔

عصمت اللہ کے مطابق پچھلی مرتبہ جب مذاکرات کی بات کی جارہی تھی تو ایک ڈرون حملے میں کمانڈر ولی الرحمٰن کو ہلاک کر دیا گیا۔ ’وہ حملہ بھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ان کرداروں نے کروایا تھا جو حکومت کو مذاکرات سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت یہ ’خام خیال‘ بھی دل سے نکال دے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پاکستان میں طالبان کی کارروائیوں میں کمی آجائے گی۔

’ہمارے بہت سے ساتھی اس وقت افغانستان میں جہاد میں مصروف ہیں۔ وہاں سے فتح مند ہونے کے بعد وہ واپس پاکستان آئیں گے اور زیادہ یکسوئی سے یہاں کارروائیاں کریں گے۔‘

اسی بارے میں