پاکستان: اسہال سے بچوں کی ہلاکتوں میں اضافہ

Image caption یونیسیف کے اعداد وشمار کے مطابق سندھ اور پنجاب میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے

ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں اسہال اور نمونیا سے ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے ایک ہزار بچوں میں سے 89 ہلاک ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں یہ شرح اموات 20 سال پہلے کی اوسط سےکہیں زیادہ ہے۔

اس کے برعکس دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اسہال اور نمونیا پر عالمی لائحہ عمل اور پاکستان میں اس کے اطلاق کے عنوان سے مطالعے میں یہ حقائق بیان کیے گئے۔

کراچی میں جمعرات کو آغا خان یونیورسٹی میں عالمی ادارۂ صحت اور بچوں کے عالمی اداروں یونیسیف کے نمائندوں کی موجودگی میں یہ مطالعہ پیش کیا گیا۔

یونیسیف کے اعداد وشمار کے مطابق سندھ اور پنجاب میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے یعنی ہر 1000 بچوں میں سے 81 اموات جبکہ سندھ اور پنجاب کی آبادیوں میں واضح فرق ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے ’سینٹر آف ایکسیلنس ان ویمن اینڈ چائلڈ ہیلتھ‘ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ذوالفقار اے بھٹہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں اسہال سے متاثر ہونے والے اور پانچ سال سے کم عمر میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی ایک ہزار بچوں میں سے دس فیصد ہے۔

جائزے کے مطابق سندھ کے شہری اور نیم شہری علاقوں کراچی، سکھر، حیدرآباد، خیر پور، گھوٹکی، لاڑکانہ اور شکارپور میں بچوں کی صحت کی صورت حال دیہی اور پسماندہ علاقوں بدین، میر پور خاص، ٹھٹہ اور جیکب آباد کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہے۔

ڈاکٹر بھٹہ کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں سماجی، معاشی ابتری اور ثقافتی روایات کے باعث صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہاں گھر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری خواتین پر ہے جبکہ ناخواندگی کے باعث وہ صحت سے متعلق آزادانہ فیصلے کرنے، صحت کے ماہرین سے مدد حاصل کرنے اورگھر سے باہر جانے سے قاصر ہیں۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ماہرین نے تجویز پیش کی ہے کہ او آر ایس، ماں کا دودھ اور مقامی آبادی کی صحت کی مستقل بنیادوں پر نگرانی ایسی کم قیمت تدابیر ہیں جن پر عمل کر کے اسہال اور نمونیا کا شکار پانچ سال سے کم عمر ہزاروں بچوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

سندھ میں ضلعی حکومتوں نے صحت، غذا، روزگار، رہائش، تعلیم اور صفائی کے شعبوں میں بہتری کے لیے جامع اور مستحکم پروگرام کا آغاز کیا ہے اور اس پروگرام کے دوسرے مرحلے میں ’پاکستان ایپروچ ٹو ٹوٹل سینیٹیشن‘ کو مزید اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔

آغا خان یونیورسٹی کے ڈاکٹر جے کے داس کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں پندرہ تدابیر شامل ہیں جن پر عملدرآمد سے بچوں کی اموات کی شرح کو کم کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر جے کے داس کے مطابق ان تدابیر میں صاف پانی کی فراہمی، صابن سے ہاتھ دھونے کی عادت کا فروغ، بچوں کے فضلے کو درست انداز میں تلف کرنا، نکاسی کا بہتر نظام، نیوموکوکل، ایچ آئی بی اور روٹا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے، ماں کے دودھ کی اہمیت سے آگاہی اور اس کا فروغ، حفاظتی وٹامنز اے اور زنک سپلیمنٹ، اسہال کے علاج کے لیے او آر ایس اور زنک پر مشتمل ادویات، دستوں کی بیماری کے لیے اینٹی بائیوٹکس اور پیدائش کے بعد ہونے والے انفیکشنز اور نمونیا کی باقاعدہ نگرانی اور علاج شامل ہیں۔

اسی بارے میں