کیا کسی پیش رفت کی توقع کی جاسکتی ہے؟

افغانستان کے صدر حامد کرزئی آئندہ سوموار یعنی 26 اگست کو پاکستان کے ایک روزہ دورے پر پہنچ رہے ہیں۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک مرتبہ پھر سرد مہری کا شکار ہیں۔ افغانستان کے پاکستان سے کئی مطالبات ہیں جو بقول ان کے پورے نہیں ہو رہے۔ کیا اس دورے میں کسی پیش رفت کی توقع کی جاسکتی ہے؟

ہمسایہ ممالک ہونے کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کی خوشیاں بھی مشترک اور غم بھی سانجھے۔ لیکن اس سطحی گرم جوشی کے اندر دونوں کو درپیش ایسی مشکلات چھپی ہیں کہ دو طرفہ تعلقات اکثر اونچ نیچ کا شکار رہتے ہیں۔ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی ختم کرنے کا ایک اور موقع فراہم کیا ہے۔

حامد کرزئی اپنے تازہ اور غالباً بطور صدر آخری دورہ پاکستان سے بہت کچھ حاصل کرنے کی امید اور چند مطالبات کے ساتھ آ رہے ہیں۔

ایک مطالبہ پاکستان میں افغانستان کے سفیر محمد عمر داوزئی نے بتاتے ہوئے کہا: ’طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہمارا مطالبہ ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو صدر کرزئی کے فروری 2012 کے دورے کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں پاکستان نے اعلیٰ افغان امن کونسل اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو ممکن بنانے میں مدد کی ہامی بھری تھی۔ یہ اب تک نہیں ہو سکا ہے۔ صدر کرزئی اس پر زور دیں گے کہ پاکستان اپنا وعدہ پورا کرے۔‘

افغان سفیر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں:’یہ سرد تعلقات نہیں بلکہ واضح تعلقات ہیں۔ ہم دونوں کو ایک دوسرے سے توقعات اور امیدیں معلوم ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ تعلقات مزید بہتر ہوں۔‘

بعض مبصرین کے مطابق زیادہ خطرے کی بات تعلقات کی کشیدگی دونوں ممالک کے سرکاری اداروں سے بڑھ کر اب اس کا عوامی سطح پر پھیلنا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام اور ذرائع ابلاغ زیادہ گرم جوشی پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے علما کی کانفرنس اس خطے میں جاری لڑائی کی مذہبی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے اہم تھی لیکن آج تک منعقد نہیں کروائی جا سکی ہے۔

پشاور کے سینیئر صحافی شمیم شاہد کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے اداروں کی بداعتمادی اور اچھے اور برے طالبان پر اختلاف رائے تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ ہے۔

’لیکن اس سے زیادہ تشویشناک بات دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط میں مشکلات ہیں۔ یہ کسی بھی دو ممالک کے عوام درمیان تعلقات والی صورتحال نہیں۔‘

دنیا میں شاید ہی ایسے دو ہمسایہ ممالک ہوں جن کے آپس کے تعلقات کا انحصار دونوں سے زیادہ دیگر ممالک سے جڑا ہو۔ برطانیہ، امریکہ، بھارت اور ایران سب اپنے اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں۔ قطر میں طالبان دفتر کے بےسود ثابت ہونے کے بعد یہ دفتر سعودی عرب یا ترکی میں کھلوانے کی بابت اس دورے میں پیش رفت کی توقع ہے۔ افغانستان کا ایک اور مطالبہ طالبان قیدیوں خصوصاً ملا محمد برادر کی رہائی رہا ہے۔

پاکستان کہتا ہے کہ پاکستان مصالحتی عمل میں پیش رفت کی ہرممکن کوشش کا حامی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری کہتے ہیں کہ مصالحتی عمل دورے کے دوران ایجنڈے کا دوسرا بڑا نکتہ ہے۔

’مذاکرات پر بات ہوگی، ہم نے کھلے دل سے کھلے ذہن سے اس بات کا اظہار کیا ہوا ہے کہ ہم افغانستان میں امن دیکھنا چاہتے ہیں اور ضمن میں ہماری طرف سے جو بھی مثبت چیز ہو سکتی ہے وہ پیش کریں گے۔‘

لیکن کیا صدر کرزئی یہ سب کچھ ماضی کے دوروں سے حاصل نہیں کر سکے اب کیسے حاصل کر لیں گے؟ ایک ایسے وقت جب ان کی صدارت کے آخری آٹھ ماہ رہ گئے ہیں اور امریکہ بھی کسی حد تک بوریہ بستر لپیٹ کر جانے کی تیاری میں ہے؟

تجزیہ نگار امتیاز گل کی رائے ہے کہ صدر کرزئی اب بےمعنی ہوگئے ہیں۔

’اس دورے کی حثیت خیرسگالی سے زیادہ نہیں ہو سکتی ہے۔ صدر کرزئی کی وجہ سے بداعتمادی کافی بڑھ گئی ہے۔ اس دورے کے بعد وہ افغانستان کے امن کے لیے بےمعنی ہو جائیں گے۔‘

سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہرگز نہیں بس وقتی تعطل ہے۔ امید ہے یہ تعطل وقتی طور پر ایک مرتبہ پھر ٹوٹ جائے گا۔

اسی بارے میں