کراچی: صحافی کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ

Image caption عبدالرازق بلوچ نے سنہ 2002 سے صحافت کا آغاز کیا

صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی عبدالرزاق بلوچ کی گمشدگی اور وحشیانہ قتل کی تحقیقات کرائے جائے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ عبدالرزاق بلوچ اخبار میں کام کرنے کے علاوہ ایک سیاسی جماعت سے بھی منسلک تھے، اس لیے تحقیقاتی اداروں کو اس کی گمشدگی اور قتل کے محرکات کا تعین کرنا چاہیے۔

تنظیم کے مطابق رواں سال چار بلوچ عمران شیخ، سیف الرحمان اور محمد اقبال بم دھماکوں جبکہ محمود احمد آفریدی نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔

دوسری جانب پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی کراچی سےعبدالرزاق بلوچ سمیت چار لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہونے کی مذمت کی ہے۔

کراچی سے لاشیں برآمد ہونے کے سلسلے پر انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پر سپریم کورٹ کی نظر زیادہ ہے شاید یہ ایک شارہ ہے کہ ایف سی اتنی طاقتور ہے کہ جہاں سے چاہے لوگوں کو اٹھائے اور جہاں چاہے پھینک دے۔

زہرہ یوسف کے مطابق انٹلیجنس اداروں کے لیے یہ مشہور ہے کہ کراچی میں ان کے سیف ہاؤسز ہیں، کافی ممکن ہے کہ کراچی میں ان لوگوں کو لاکر تفتیش اور تشدد کرکے پھر یہاں ہلاک کردیا جاتا ہے لیکن اس بارے میں تصدیق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی سے بدھ کو ملنے والی نامعلوم لاش کی شناخت بلوچ صحافی حاجی عبدالرازق کے طور پر کی گئی ہے۔

ان کے اہل خانہ کے مطابق چوبیس مارچ کو عبدالرازق کسی کام کے سلسلے میں چاکیواڑہ جارہے تھے کہ سفید کار میں سوار افراد انھیں اٹھاکر کر لے گئے جس کے بعد ان کا پتہ نہیں چلا۔

سعیدہ سربازی نے کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ انھوں نے اپنے بھائی کی شناخت بازوں اور ٹانگوں سے کی گئی ہے کیونکہ چہرہ اور جسم تشدد کے باعث مسخ تھا‘ اس لیے شناخت میں مشکل ہو رہی تھی۔

عبدالرازق بلوچ کے دوست زاہد بارکزئی کا کہنا ہے کہ عبدالرزاق مارکسزی فلسفے کے پیروکار اور چے گویرا سے متاثر تھے، انھوں نے حال ہی میں انسان کے ارتقا کے بارے میں کتاب انسان کیسے بنا کا بلوچی میں ترجمہ بھی کیا تھا، دوست انہیں ڈارون کہہ کر بھی بلاتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ عبدالرازق بلوچ نے سنہ 2002 سے صحافت کا آغاز کیا اور وہ ایک بڑے عرصے تک روزنامہ ’توار‘ سے منسلک رہے اور جب سنہ 2004 میں غلام محمد بلوچ نے بلوچستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھا تو وہ بھی اس میں شامل ہوگئے، آخری دنوں میں وہ تنظیم کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات تھے۔

اسی بارے میں