اہل سنت والجماعت کے ترجمان کے قتل کے بعد دھرنا

Image caption تنظیم کے رہنما اورنگزیب فاروقی کا کہنا ہے کہ نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل نے پہلے ہی نشاندھی کی تھی مولانا اکبر سعید کی زندگی کو خطرہ ہے

اہل سنت و الجماعت کے ترجمان مولانا اکبر سعید کی نمازے جنازہ پیر کی صبح لانڈھی کے قریب قومی شاہراہ پر ادا کر دی گئی، جس کے بعد ان کی میت بذریعہ جہاز پشاور کے لیے روانہ کی گئی جہاں سے ان کے آبائی گاؤں مہمند ایجنسی پہنچائی جائے گی۔

اہل سنت و الجماعت کے کارکنوں نے شاہراہ فیصل پر احتجاجی دھرنا دیا ہے، جس کے باعث ٹریفک معطل ہے۔ کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ مولانا اکبر سعید کے قتل کا مقدمہ حکومت سندھ اور پولیس کے خلاف دائر کیا جائے۔

اتوار کے روز کراچی میں مولانا اکبر سعید کو فائر کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

شہر کے علاقے سفاری پارک کے قریب مولانا اکبر سعید پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ موٹر سائیکل پر اپنے گھر جا رہے تھے۔ انھیں زخمی حالت میں مقامی ہپستال پہنچایا گیا ہے، جہاں انہوں نے دم توڑ دیا۔

بھکر: فرقہ وارانہ تشدد، غیر اعلانیہ کرفیو

اہل سنت و الجماعت کے کارکنوں کی بڑی تعداد ہسپتال کے باہر پہنچ گئی ہے۔ تنظیم کے رہنما اورنگزیب فاروقی کا کہنا ہے کہ نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل نے پہلے ہی نشاندھی کی تھی مولانا اکبر سعید کی زندگی کو خطرہ ہے لیکن باوجود اس کے انھیں محافظ فراہم نہیں کیے گئے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی اہل سنت و الجماعت اور کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے ترجمانوں پر حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں قاری شفیق، انجینیئر الیاس زبیر اور احسان اللہ فاروقی ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس سے پہلے اہل سنت والجماعت کی جانب سے بھکر میں حملوں اور کارکنوں کی ہلاکتوں کے خلاف اتوار کو لسبیلہ چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ حکومت نے حملہ آوروں کو چھوٹ دے رکھی ہے۔

یاد رہے کہ جمعے کو بھکر میں فرقہ وارانہ واقعات میں 11 افراد ہلاک ہوگئے تھے، جس کے خلاف اہل سنت و الجماعت اور مجلس وحدت لمسلمین نے احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

مجلس وحدتِ لمسلمین کی جانب سے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں بھکر واقعے کے لیے عدالتی ٹربیونل قائم کرنے اور پنجاب کے صوبائی وزیر رانا ثناللہ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔

دوسری جانب شہر علاقے گلشن اقبال سے سنی تحریک کے سیکٹر انچارج جاوید قادری کی لاش ملی ہے۔ سنی تحریک کے سربراہ اعجاز قادری کا الزام ہے کہ ان کے کارکن کو اغوا کے بعد ہلاک کیا گیا۔

سنی تحریک کی جانب سے لاش سمیت ایم اے جناح روڈ پر دھرنا دیا گیا اور تین روز سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ادھر سوموار کو گلشن اقبال کے علاقے میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے، جس کی شناخت قمر سجاد کے نام سے کی گئی ہے۔ عزیز بھٹی پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول امام بارگاہ کے بورڈ کا ممبر اور نجی کمپنی میں ملازم تھا۔

اسی بارے میں