افغان صدر سے مذاکرات دوسرے روز بھی جاری

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان وزیرِاعظم نواز شریف کی درخواست پر اپنے دورے میں توسیع کر دی ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے رہنماؤں کو مشترکہ مفادات اور علاقائی امور پر بات چیت کرنے کے لیے مزید وقت ملے گا۔

منگل کو وزیرِ اعظم پاکستان افغان صدر کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔

گذشتہ روز صدر حامد کرزئی نے امید ظاہر کی تھی کہ پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان کی مدد کرے گا۔

پیر کی دوپہر اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ ان کے وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف سے جامع مذاکرات ہوئے ہیں، جن کے ایجنڈے پر انتہاپسندی کا مسئلہ سرِ فرست تھا۔

انھوں نے کہا کہ انتہاپسند ہمارے مشترکہ دشمن ہیں جو دونوں ملکوں کے عوام اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس سے قبل میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی اور خوشحالی افغانستان کے ساتھ وابستہ ہے اور پاکستان افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان وفود کی سطح پر افغانستان میں قیامِ امن اور دو طرفہ تعلقات پر باقاعدہ بات چیت شروع ہو چکی ہے۔

مذاکرات میں افغانستان کی صورتِ حال بالخصوص 2014 میں افغانستان سے نیٹو افواج کے پرامن انخلا پر بات ہوئی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی اور موصلات کے شعبوں میں تعاون پر بھی بات کی گئی۔

پاکستانی وزیرِاعظم نے کا افغانستان کے ساتھ مشترکہ ہائیڈل پراجیکٹ، اور دوسرے معاشی معاہدوں پر بات چیت کی گئی۔

پاکستان کی طرف سے مذاکرات میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، وزیرِاعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی ، پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی شریک تھے، جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی وزیرِاعظم نواز شریف نے کی۔

افغانستان کی طرف سے مذاکرات میں ملک کے وزیرِ خزانہ، نائب وزیرِ خارجہ اور افغان اعلیٰ امن کونسل کے چیئرمین شریک ہوئے اور افغان وفد کی سربراہی صدر حامد کرزئی نے کی۔

اس سے پہلے افغان صدر حامد کرزئی دو طرفہ تعلقات، خطے کے حالات اور افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں پر بات چیت کے لیے اسلام آباد پہنچ تھے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اس دورے میں صدر حامد کرزئی کے ساتھ ان کے کابینہ کے وزرا اور سینیئر سرکاری اہلکار شامل ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی اپنے دورے میں پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف کو افغانستان میں قیامِ کی کوششوں کی حمایت کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان دونوں اس بات کو سمجھتے ہیں کہ خطے کا امن معاشی استحکام سے وابستہ ہے۔

سرکاری ریڈیو پاکستان نے دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری کے حوالے سے بتایا تھا کہ افغان صدر کےدورے سے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوں گی اور تعلقات میں بہتری آئے گی۔

انھوں نے افغان صدر کے دورے کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں نئی حکومت بننے کے بعد یہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سربراہی سطح پر پہلا رابطہ ہوگا۔

اسی بارے میں