اسلام آباد:’ریپڈ رسپانس فورس‘ قائم کی جائےگی

Image caption اس فورس کے اہلکاروں کو وزارت داخلہ میں قائم ہونے والے جوائینٹ انٹیلیجنس سینٹر کے ذریعے جو اطلاعات ملیں گی

وفاقی حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں ’ریپڈ رسپانس فورس‘ یعنی فوری ردِعمل کی فورس کے قیام کے اعلان کے بعد اس میں بھرتیوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے اور اس میں حال ہی میں فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے ریٹائرڈ افراد کو ترجیح دی جائے گی۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ریپڈ رسپانس فورس پانچ سو افراد پر مشتمل ہوگی جبکہ یہ فورس قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی یعنی نیکٹا کے زیرِ کمان ہوگی۔

اس فورس کے طریقہ کار سے متعلق وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فورس کے اہلکاروں کو وزارت داخلہ میں قائم ہونے والے جوائینٹ انٹیلیجنس سینٹر کے ذریعے جو اطلاعات ملیں گی اُن کی روشنی میں ممکنہ شدت پسندی کی کارروائی کو روکنے کے لیے یہ فورس عمل میں آئے گی۔ اس جوائینٹ انٹیلیجنس سینٹر میں انٹیلیجنس بیورو، انٹر سروسز انٹیلیجنس ایجنسی اور ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکار شدت پسندوں سے متعلق معلومات فراہم کریں گے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس فورس کے اہلکار گرفتار ہونے والے شدت پسندوں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کریں گے بلکہ وہ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے اُنہیں مقامی پولیس کے حوالے کریں گے جو قانون کے مطابق اُن شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

ایک اہلکار کے مطابق ریپڈ رسپانس فورس کی تشکیل کے بعد اس فورس میں شامل افراد کو منگلا میں فوجی کمانڈوز تربیت دیں گے اور اس ضمن میں فوج اپنی رضامندی بھی ظاہر کر چکی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کا اس فورس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا اور اسلام آباد پولیس میں قائم انسداد دہشت گردی سکواڈ اُسی طرح ہی کام کرتا رہے گا جیسے وہ اس فورس کے قیام سے پہلے کرتا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس سکواڈ کے زیادہ تر اہلکار وفاقی وزراء اور اہم شخصیات کی حفاظت پر مامور ہیں۔

Image caption اسلام آباد میں ایک مسلح شخص کے مرکزی شاہراہ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد اسلام آباد پولیس پر کافی تنقید کی جا چکی ہے

وزارت داخلہ کے ترجمان عمر حمید کے مطابق اسلام آباد میں اس فورس کے کامیاب ہونے کی صورت میں اس کا دائرہ کار ملک کے چاروں صوبوں تک پہنچایا جائے گا۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں اسلام آباد میں کسی بھی ممکنہ شدت پسندی کے واقعہ سے نمٹنے کے لیے اس طرح کی فورس کے قیام پر کام ہوا تھا جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ قاف کے سربراہ چوہدری شجاعت حیسن نے بطور وزیر داخلہ اس فورس کے قیام پر بھی کاغذی کارروائی بڑی حد تک مکمل کر لی تھی۔

سندھ پولیس کے سابق سربراہ ڈاکٹر شعیب سڈل بھی اس فورس کے قیام اور اس میں موجود اہلکاروں کو فوج سے جدید خطوط پر تربیت دینے کے لیے رابطہ کار کا کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں