سوات: ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 250

Image caption ڈاکٹر تاج محمد خان نے کہا کہ 80 مریض صحتیابی کے بعد گھروں کو لوٹ گئے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختو نخواہ کے ضلع سوات کے سرکاری ہسپتال میں ڈینگی بخار سے متاثرہ رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 250 ہوگئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق 100 سے ذائد مریض سوات کے دیگر پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی زیر علاج ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

سیدو گروپ اف ٹیچنگ ہسپٹلز کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر تاج محمد خان نے صحافی سید انور کو بتایا کہ ہسپتال میں 300 کے قریب ڈینگی کے ٹیسٹ کرائے گئےجن میں 250 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی جن میں205 مرد اور 45 خواتین شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک مریض کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انھیں پشاور منتقل کردیا گیا جبکہ باقی مریضوں کی حالت نارمل ہے۔

ڈاکٹر تاج محمد خان نے کہا کہ 80 مریض صحتیابی کے بعد گھروں کو لوٹ گئے ہیں جن میں 13 خواتین شامل تھے۔ ان کے مطابق سیدو شریف ہسپتال میں متاثرہ افراد کے لیے دو وارڈ مختص کردیے گئے ہیں اور اس وقت 160 مریض ہسپتال میں ذیر علاج ہیں۔

سوات کے علاقوں چارباغ اور مینگورہ شہر میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ذیادہ بتائی جاتی ہے۔

ڈاکٹر تاج محمد خان نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت نے اس مرض کے تشخیص کے لیے 500 کٹس فراہم کیے ہیں جبکہ مرض کے روک تھام کے لیے صوبائی حکومت کے طرف سے چار کروڑ روپے کا فنڈ بھی جلد فراہم کر دیا جائے گا۔

ڈینگی کے حوالے سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گھروں ، محلوں اور گلیوں میں کھڑے پانی میں ڈینگی مچھر کی افزائش ہوتی ہے اور ڈینگی مچھر سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے کے اوقات میں کاٹتا ہے۔

بتایا جاتاہے کہ حالیہ دنوں میں شدید بارشوں کے باعث دریائے سوات اور برساتی نالوں میں طغیانی ائی کی وجہ سے پانی کئی دنوں تک سڑکوں اور نالوں میں کھڑا رہا جس سے ڈینگی مچھروں کی افزائش ہوئی اور مرض کی شدت میں اضافہ ہوا۔

ہسپتال میں زیرِ علاج ایک مریض نثار نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں کئی دنوں سے بخار تھا اور اسکا جسم شدید درد سے نڈھال تھا۔انھوں نے کہا کہ جب انھوں نے لیبارٹری میں ٹیسٹ کرائے تو انھیں بتایا گیا کہ اسے ڈینگی بخار ہے جس کے بعد ان کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے وہ کافی ڈرے ہوئے تھے تاہم اب انکی حالت بہتر ہے ۔

سوات میں ڈینگی بخار کے کیسز میں اضافے کے بعد محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مینگورہ شہر اور دیگر مختلف علاقوں میں مچھر مار سپرے بھی کیا جارہا ہے جس کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ اس مرض پر قابو پالیا جائے گا۔

اسی بارے میں