’کراچی میں فوج بلائی جائے‘

Image caption سندھ حکومت لیاری اور اس کے گردونواح کے مکینوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ الطاف حسین

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے شہر کے انتظامات فوج کے حوالے کر دیں جائیں۔ الطاف حسین نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ لیاری اور اس کے گردونواح کے مکینوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

الطاف حسین کے اس مطالبے کے بعد ایم کیو ایم کے راہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے آج قومی اسمبلی میں کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا دوہرایا۔

قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں فاروق ستار نے کہا کہ مختلف عناصر مل کر کراچی کے حالات کو خرارب کر رہے ہیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ اگر فوج کو انتخابات میں نگرانی کے لیے بلایا جا سکتا ہے تو امن کے لیے بھی فوج کو طلب کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کی ناکامی کی صورت میں فوج بلانا حکومت کا فرض ہے۔

لیکن دوسری جانب سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی میں فوج طلب کرنے کے مطالبے کی مخالفت کی ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ایک بڑی غلطی ہو گی۔

پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نواب محمد یوسف تالپر کا کہنا ہے اگر وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم کا مطالبہ مانا تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ معاملے کو گفتو و شنید سے سلجھانا چاہیے ۔ یوسف تالپر نے کہا کہ فوج بلوانے کا مطالبہ حکومت کے حلاف سازش بھی ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے منتخب صدر ممنون حسین جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے نے رواں ماہ کے آغاز پر اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ کراچی میں امن بحال کرنے کے لیے فوج کی مدد لی جا سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایم کیو ایم محب وطن جماعت ہے تو اسے امن کے لیے کراچی میں فوج کی آمد پر کوئی اختلاف نھیں ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں