عمران خان نے توہینِ عدالت کا جواب جمع کروا دیا

Image caption عمران خان نے اپنے جواب میں اپنے بیان پر عدالت سے غیر مشروط معافی نہیں مانگی

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت میں اظہار وجوہ کے نوٹس پر اپنا تفصیلی جواب جمع کروا دیا ہے۔

عمران خان نے اپنے جواب میں اپنے بیان پر عدالت سے غیر مشروط معافی نہیں مانگی بلکہ اُنہوں نے اپنے چھبیس جولائی کے اُس بیان کا دفاع کیا ہے جس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں الیکشن کمیشن اور عدلیہ کا کردار شرمناک تھا۔

’جواب داخل کروائیں، دیکھتے ہیں کون شرمندہ ہوتا ہے‘

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات رات کے اندھیرے میں چُرائے گئے اور اس میں ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران اور ریٹرنگ افسران اور الیکشن کمیشن کی ناک کے نیچے یہ کام ہوتا رہا لیکن اُنہوں نے اس انتخابی دھاندلی کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

عمران خان کے جواب میں میاں نواز شریف کی گیارہ مئی کی رات کو کی جانے والی تقریر کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اُن کی اطلاع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نون جیت رہی ہے جبکہ اُس وقت تک صرف پندرہ فیصد پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ آیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس تقریر کا مقصد متعقلہ حکام کو یہ واضح پیغام دینا تھا کہ نواز لیگ کو جتوایا جائے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ارکان اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ عمران خان نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے رکن ریاض کیانی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے پاکستان مسلم لیگ نون کے نمائندے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے چھبیس جولائی کو شرمناک کا لفظ عدلیہ کے لیے نہیں بلکہ ریٹرنگ افسران کے لیے ادا کیا تھا۔

عمران خان نے اپنے جواب میں عدالت سے کہا ہے کہ توہین عدالت میں دیا جانے والا اظہار وجوہ کا نوٹس واپس لیا جائے۔

دوسری طرف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کرے گا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عدالت میں پیش ہوں گے جبکہ الیکشن ٹربیونل نے انتخابی دھاندلی سے متعلق حامد خان کو اٹھائیس اگست کو لاہور میں طلب کر رکھا ہے جس کی وجہ سے اس بات کا امکان ہے کہ اٹھائیس اگست کو عدالتی کارروائی میں کوئی بڑی پیش رفت ہونے کی توقع نہیں ہے۔

اسی بارے میں