دھاندلی کیس: پی ٹی آئی کی درخواستیں منظور

Image caption تحریکِ انصاف الزام لگاتی رہی ہے کہ 11 مئی کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے

الیکشن ٹربیونل نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما حامد خان کی طرف سے 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دی گئی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے اور اس ضمن میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 سے عام انتخابات میں حصہ لینے والے تمام اُمیدواروں کو 28 اگست کو طلب کرلیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اس حلقے سے حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے اُمیدوار خواجہ سعد رفیق کامیاب قرار پائے تھے۔ خواجہ سعد رفیق کے پاس ان دنوں وزارت ریلوے کا قلم دان ہے۔

الیکشن کمیشن کے اہل کار کے مطابق اس ٹربیونل کی سربراہی ریٹائرڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیف الرحمن کریں گے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے اُمیدوار حامد خان نے ان انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ریٹرنگ افسر کو درخواست دی تھی جو مسترد کردی گئی تھی۔ اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اُن کے مخالف اُمیدوار خواجہ سعد رفیق نے دھاندلی کے ذریعے انتخابات میں فتح حاصل کی جب کہ اگر نادرا کے ریکارڈّ کے مطابق ووٹوں کی گنتی کروائی جاتی تو نتائج اس سے مختلف ہوتے۔

دوسری طرف تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی الیکشن کمیشن کو درخواست دی ہے کہ لاہور سے ہی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 میں بھی اُن کے مخالف اُمیدوار ایاز صادق نے دھاندلی کےذریعے کامیابی حاصل کی ہے۔

ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر ہیں اور اُنہوں نے ہی عمران خان سے بحثیت رکن قومی اسمبلی کا حلف لیا تھا۔ عمران خان کی اس درخواست کی سماعت ستمبر کے دوسرے ہفتے میں ہوگی۔

Image caption عمران خان نے بھی الیکشن کمیشن کو درخواست دی ہے کہ لاہور سے ہی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 میں بھی اُن کے مخالف اُمیدوار ایاز صادق نے دھاندلی کےذریعے کامیابی حاصل کی ہے

پاکستان تحریک انصاف نے 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ ان کی جانب سے جن چار حلقوں میں بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے دوبارہ گنتی کروائی جائے، اُن میں قومی اسمبلی کے مذکورہ دو حلقے بھی شامل ہیں۔

مذکورہ سیاسی جماعت حالیہ ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی دھاندلی کا الزام کر رہی ہے۔ ان ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو عمران خان کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی دو نشتوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی دھاندلی کے خلاف شکایات سُننے کے لیے 14 الیکشن ٹربیونل قائم کیے ہیں۔ قانون کے مطابق انتخابی نتائج کے اعلان کے 45 روز کے اندر اندر اُمیدوار کو الیکشن ٹربیونل میں درخواست دینا ہوتی ہے اور الیکشن ٹربیونل اگلے چار ماہ کے اندر اندر ان درخواستوں پر فیصلہ دینے کا پابند ہوتا ہے۔

الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف کوئی بھی اُمیدوار ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے، لیکن آئینی ماہرین کے مطابق یہ طریقہ کار اتنا لمبا اور پیچیدہ ہے کہ ان درخواستوں پر فیصلہ آتے آتے تک اگلے عام انتخابات کی تاریخ قریب آجاتی ہے۔

اسی بارے میں