عافیہ سمیت قیدیوں کی واپسی کے معاہدے کی منظوری

Image caption ان معاہدوں سے بیرون ملک قید پاکستانیوں کو فائدہ پہنچے گا: پرویز رشید

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے کونسل آف یورپ کنونیشن کا معاہدہ کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت امریکہ اور یورپ سمیت دیگر ممالک میں قید پاکستانی کی وطن واپسی ممکن ہو سکے گی۔

اس معاہدے کی منظوری وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بی بی سی کے نامہ نگار ذیشان ظفر کو بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف نے وزارتِ داخلہ کو ترجیحی بنیادوں پر اس معاہدے پر دستخط کرنے کے عمل کو مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہو سکے۔

پرویز رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان معاہدوں سے بیرون ملک قید پاکستانیوں کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ وہاں قید زیادہ تر پاکستانی کم آمدن والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے اہل خانہ کے لیے یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ باہر جا کر اپنے پیاروں سے ملاقات کر سکیں‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ سہولت دنیا کے بہت سارے ممالک نے حاصل کر رکھی ہے کہ ان کے شہریوں کو جب بیرون ان کے شہریوں کو سزا ہو جائے تو بقیہ سزا اپنے ملک میں پوری کرتے ہیں۔

’امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی پاکستان منتقلی بھی اس لیے رکاوٹ تھی کیونکہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے کوئی معاہدہ موجود نہیں تھا اور اور اب جب اس معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے تو اس کے بعد یقیناً ( ڈاکٹر عافیہ صدیقی) کی واپسی کا راستہ کھل جائے گا۔‘

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ستمبر 2010 میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج رچرڈ برمن نے 86 سال کی سزا سنائی تھی۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے میں پاکستان میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں سزائے قید کاٹنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کرنے کے سوال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں صرف ان قیدیوں کے تبادلہ ممکن ہو سکتا جو اس ملک کے شہری ہوتے ہیں، اور جن کا ذکر آپ کر رہے ہیں وہ امریکی شہری نہیں بلکہ پاکستانی شہری ہیں۔‘

خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت نے امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں تیس سال قید کی سزا سُنائی۔ امریکہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا متعدد بار مطالبہ کر چکا ہے۔

دریں اثناء گزشتہ سال امریکی رکن ایوان نمائندگان ڈانا رورا باچر نے ایوان میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکی شہریت دینے کے حوالے سے ایک بل جمع کرایا تھا۔ ایوان نے اس بل کو کارروائی کے لیے ایوان کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے سپرد کر دیا تھا۔

اگر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو آئندہ کسی وقت امریکی شہریت دے دی جاتی ہے تو کیا اس صورت میں پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کرنے کا پابند ہو گا، اس پر وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ ’جس وقت جرم ہوا اور انہیں گرفتار کیا گیا تو اس وقت وہ پاکستانی شہری تھے، اور اس طریقے سے تو نہیں ہو سکتا ہے کہ کسی کو سزا ہو جائے اور اسے اپنے ملک کی شہریت دے کر رہا کرا لیں۔‘

اسی بارے میں