عمران خان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج

Image caption عمران خان نے روسٹم پر آکر کہا کہ وہ عدلیہ بحالی تحریک میں جیل بھی گئے ہیں

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو دیا جانے والے توہین عدالت کے نوٹس کو خارج کردیا ہے۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کے تحریری جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ تاہم اٹارنی جنرل منیر اے ملک کے دلائل سُننے کے بعد اس نوٹس کو خارج کردیا ہے۔

’جواب داخل کروائیں، دیکھتے ہیں کون شرمندہ ہوتا ہے‘

عمران خان کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں نہ تو اُنہوں نے شرمناک کا لفظ واپس لیا اور نہ ہی اس لفظ کے استعمال کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے کوئی غلطی کی ہی نہیں ہے تو پھر وہ عدلیہ سے معافی کیوں مانگیں۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی۔

عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ اُن کے موکل نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے عدلیہ کی تضحیک کا پہلو نکلتا ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنی چھبیس جولائی کی پریس کانفرنس میں جو شرمناک کا لفظ استعمال کیا تھا اس کی وضاحت وہ کئی بار اپنے بیانات میں کرچکے ہیں۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ لُغت میں شرمناک کا لفظ انتہائی قابل اعتراض ہے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ شرمناک کا لفظ استعمال کرنے پر عمران خان کی طرف سے پچھتاوے کا بھی اظہار نہیں کیا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اپنے جواب میں یہی لکھ دیتے کہ اگر شرمناک لفظ غلط فہمی کی بنیاد پر استعمال کیا گیا ہے تو پھر بھی بات بن سکتی تھی۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جاہل یہ لفظ استعمال کرتا تو عدالت اُسے نظر انداز کردیتی لیکن سیاسی طور پر اتنے قد کاٹھ والے عمران خان سے اس لفظ کے استعمال کی توقع نہیں تھی۔ عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کے بیان کو سیاق و سباق میں دیکھا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ عمران خان نے شرمناک کا لفظ ریٹرننگ افسران کے لیے استعمال کیا ہے۔ بینچ میں موجود جسٹس اعجاز چوہدری نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مطمئین کریں کہ شرمناک لفظ کے استعمال سے عدلیہ کی تضحیک کا پہلو نہیں نکلتا تو پھر وہ یہ نوٹس واپس لے لیں گے۔

عمران خان نے روسٹم پر آکر کہا کہ وہ عدلیہ بحالی تحریک میں جیل بھی گئے ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حیسن نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب وہ سیاست میں آئے ہیں تو اس میں جیل میں آنا جانا تو لگا رہے گا۔

عدالت نے پہلے تو عمران خان کے بیان کو مسترد کردیا اور اُنہیں اپنے وکیل کے ساتھ دوبارہ مشاورت کرکے نیا جواب داخل کروانے کی ہدایت کی۔ وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ یہ مقدمہ ایک شخص کے بیان کے گرد گھومتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ عدالتی حکم کی نافرمانی کا نہیں ہے۔

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ عدلیہ کا وقار کسی ایک شخص کے کہنے سے مجروح نہیں بلکہ عدلیہ کا وقار لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص عدلیہ پر کوئی بھی الزام عائد کرے تو لوگ اس پر یقین نہیں کریں گے۔

منیر اے ملک کے دلائل سُننے کے بعد سپریم کورٹ نے عمران خان کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس خارج کردیا۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی 26 جولائی کی پریس کانفرنس کا نوٹس لیتے ہوئے اُنہیں توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کا نوٹس لے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کی جماعت کا مقصد عدلیہ کو مضبوط کرنا ہے نہ کہ اُس کے ساتھ محاذ آرائی کرنا۔

اسی بارے میں