’مہاجر ریپبلکن آرمی کی موجودگی کا دعویٰ‘

وفاقی حکومت نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں ایک خفیہ رپورٹ پیش کی ہے جس میں ایک غیر معروف عسکری گروہ مہاجر رپبلکن آرمی کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

بی بی سی کے پاس موجود اس رپورٹ کی کاپی میں کہا گیا ہے کہ مہاجر ریپبلکن آرمی کے ارکان کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں اس گروہ کی سرگرمیوں اور مقاصد بیان نہیں کیے گئے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے کراچی میں اس نام کے گروپ کا کبھی کہیں ذکر سامنے نہیں آیا۔اس خفیہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیاری میں آپریشن کرنے سے اجتناب برتا جائے کیونکہ اس سے دوسرے محاذ کھل سکتے ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق محکمۂ داخلہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کچھ افراد ٹھٹہ اور بدین میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی مالی مدد کر رہے ہیں اور ان کی نشاندہی کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رینجرز نے نو گو ایریاز کا خاتمہ کر کے حکومت کی روایتی رٹ برقرار رکھنے میں مدد کی۔

دوسری جانب پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی بدلتی صورت حال اور سیاسی بیانات پر سپریم کورٹ نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اگر کریڈٹ لینا ہے تو کراچی میں امن و امان بحال کرایا جائے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے جمعرات کو کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے چیف سیکرٹری سندھ سے مخاطب ہوکر کہا کہ کراچی کی بندرگاہ سے اسلحہ پورے ملک میں اسمگل ہوتا ہے، وزیرستان اور بلوچستان کی کالعدم تنظیموں کے ساتھ ساتھ عسکریت پسند بھی یہ اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔

چیف سیکرٹری اور آئی جی سندھ پولیس نے جمعرات کو عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو سالوں میں 4,954 افراد قتل کیے گئے۔

نامہ نگار کے مطابق چیف جسٹس نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے لیکر آج تک کراچی میں جتنا بھی خون بہا ہے اس کی ذمہ دار صوبائی اور وفاقی حکومتیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا اب تسلیم کیا جا رہا ہے کہ کراچی میں نو گو ایریاز موجود ہیں اگر یہ بات ابتدا میں تسلیم کر لی جاتی اور کارروائی ہوتی تو اب تک یہ ایریاز ختم ہو چکے ہوتے۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ایک موقع پر سوال کیا کہ سٹیزن پولیس لیژان کمیٹی کون سا ادارہ ہے اور یہ کس کے ماتحت کام کرتا ہے؟

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ یہ شہریوں کا ادارہ ہے جو گورنر ہاؤس کے ماتحت اغوا کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے کام کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے ملک میں نیٹو کنٹینروں کے لاپتہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کی بندرگاہ سے منشیات اور اسلحے کی ترسیل کی جا رہی ہے اور ان کنٹینروں کا اسلحے ملک بھر میں پھیل چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اسلحے سے بھرے 19 ہزار کنٹینرز لاپتہ ہیں جو صوبے میں استعمال کیے جا رہے ہیں، بلوچستان سے جو اسلحے پکڑا گیا ہے اس کا تعلق بھی کراچی سے تھا۔

چیف جسٹس نے سندھ کے چیف سیکرٹری چوہدری اعجاز سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ نے زحمت کی کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ آپ کو اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے مدد مانگنی چاہیے تھی۔

دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس نے چھاپے مارکر گرفتاریاں کی ہیں تاہم ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں ان کے کارکن بھی شامل ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے 100 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن کی بحالی میں رینجرز اور سندھ حکومت ناکام ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں