پشاور: ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کالعدم قرار

Image caption ڈاکٹر شکیل آفریدی کو دی گئی سزا کے خلاف گزشتہ سال جون میں اپیل کی گئی تھی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے پشاور ڈویژن کے کمشنر نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کو مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ایک شدت پسند تنظیم سے معاونت کرنے کے الزام میں دی گئی 33 برس قید اور جرمانے کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت کے فیصلے کے مطابق ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے ساتھ روابط تھے اور وہ تنظیم کو فنڈز فراہم کرتے تھے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لیے جعلی ویکسینیشن مہم چلائی تھی۔

’ممکن ہے شکیل آفریدی لاعلم ہو‘

جاسوس یا پیادہ؟

شکیل آفریدی کی سزا پر چند سوالات

اس سزا کے خلاف اپیل کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی اور قبائلی علاقوں کے خصوصی قوانین ایف سی آر کے مطابق کمشنر پشاور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے اپیل کورٹ کے جج کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

جمعرات کو کمشنر پشاور صاحبزادہ انیس نے اپیل کی سماعت کے دوران ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر آفریدی پر عائد الزامات پر اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ سزا نہیں دے سکتے تھے۔انھوں نے پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کو ہدایت دی کہ وہ اس کیس کی دوبارہ سے سماعت کریں۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ اپیل کورٹ کے فیصلے کے بعد اب شکیل آفریدی ایک مرتبہ پھر مجرم سے حوالاتی بن گئے ہیں اور اب ان کے خلاف مقدمے کی سماعت ایک مرتبہ پھر شروع ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی اس مقدمے کے سماعت سیشن جج کے طور پر کریں گے اور یہ سماعت پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر یا جیل کے اندر ہو گی اور سماعت میں ڈاکٹر شکیل افریدی کے مستقبل کا دوبارہ فیصلہ ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ پولیٹکل ایجنٹ کا فیصلہ جو بھی ہو، ڈاکٹر شکیل آفریدی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوبارہ اپیلیٹ کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پولیٹکل ایجنٹ کے حوالات میں بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خیبر ایجنسی کے دیگر قیدی بھی اس وقت سینٹرل جیل پشاور میں قید ہیں۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو علاقائی معاہدے موجود ہیں جن کو اگر اکٹھا کیا جائے تو ڈاکٹر شکیل آفریدی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے تبادلے پر بات جیت کی جا سکتی ہے۔ ایک دن پہلے بدھ کو پاکستان کی وفاقی کابینہ نے قیدیوں کے تبادلے کے لیے کونسل آف یورپ کنونیشن کا معاہدہ کرنے کی منظوری دی ہے جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے وزارتِ داخلہ کو ترجیحی بنیادوں پر اس معاہدے پر دستخط کرنے کے عمل کو مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہو سکے۔

گزشتہ سال سزا کے خلاف اپیل

Image caption ڈاکٹر شکیل آفریدی پر اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے جعلی ویکسینیشن مہم چلائی تھی

گزشتہ سال جون میں امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو قبائلی علاقوں کے قانون ایف سی آر کے تحت سنائی گئی 33 سال کی سزا کے خلاف کمشنر پشاور ڈویژن کی عدالت میں اپیل دائر کی گئی تھی۔

اس وقت شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ انھوں نے کمشنر پشاور ڈویژن کی عدالت میں شکیل آفریدی کی جانب سے ان کے بھائی جمیل آفریدی کے توسط سے اپیل دائر کی ہے جس میں انھوں نے مختلف نکات اٹھائے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ سات سال سے زیادہ کی سزا کا اختیار نہیں رکھتا جبکہ شکیل آفریدی کو تینتیس سال کی سزا سنائی گئی ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔

سمیع اللہ آفریدی کے مطابق اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت میں شکیل آفریدی کو دفاع کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی انھیں یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کوئی وکیل مقرر کر سکتے اس لیے یہ سزا آئین کے خلاف ہے۔

گزشتہ ماہ منظرعام پر غیر ملکی ٹی وی چینل الجزیرہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی مبینہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ میں اُسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں امریکہ کی مدد کرنے کے الزام کا سامنے کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو قبائلی انتظامیہ کے ذریعے ایک اور مقدمے میں مجرم قرار دینے پر تنقید کی ہے اور کہا کہ یہ ممکن ہے کہ انہیں امریکہ کے سپیشل آپریشنز مشن اور اس کے مطلوبہ ہدف (بن لادن) کا علم ہی نہ ہو۔

اسی بارے میں