پشاور: ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف احتجاج

Image caption مظاہرین نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرنے کے نعرے بھی لگائے

جماعت اسلامی نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی مبینہ طور پر نشاندہی میں مدد دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کالعدم قرار دیے جانے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

پشاور میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی پشاور کے سیکرٹری جنرل حمد اللہ بڈھنی نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی امریکہ اور سی آئی اے کے ایجنٹ اور پاکستان کے دشمن ہیں اس لیے ان پھانسی کی سزا دی جائے۔

پشاور: ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کالعدم قرار

انہوں نے کمشنر پشاور کی طرف سے شکیل آفریدی کی سزا کالعدم قرار دیے جانے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب ڈرامہ شکیل آفریدی کو رہا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مظاہرے کا اہتمام جمعہ کو پشاور پریس کلب کے سامنے کیا گیا جس کی قیادت ضلعی جنرل سیکرٹری حمد اللہ بڈھنی کر رہے تھے۔مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر ڈاکٹر شکیل آفریدی اور امریکہ کے خلاف نعرے درج تھے۔

اس موقع پر جماعت کے کارکنوں نے شکیل آفریدی کو پھانسی دو، امریکہ کا جو یار ہے غدار غدار ہے، کے نعرے بلند کیے۔

مظاہرین نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرنے کے نعرے بھی لگائے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرے میں تیس سے لے کر چالیس تک افراد نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ جمعرات کو کمشنر پشاور نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت کی طرف سے دی گئی 33 برس کی قید اور جرمانے کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

ملزم پر الزام ہے کہ ان کے کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے ساتھ روابط تھے اور وہ اس تنظیم کو فنڈز بھی فراہم کرتے تھے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی نے مبینہ طور پر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لیے جعلی ویکسینیشن مہم چلائی تھی۔ وہ تقریباً دو سال سے سینٹرل جیل پشاور میں قید ہیں۔

اسی بارے میں