’کراچی میں اسلحے سے بھرے 19 ہزار کنٹینرز کی آمد‘

Image caption ڈی جی رینجرز نے کہا کہ کراچی میں پرتشدد واقعات میں اے کے 47 اور اکثر واقعات میں نو ایم ایم پستول کا استعمال ہوتا ہے

پاکستان رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل نے سپریم کورٹ میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ دورِ حکومت میں اسلحے سے بھرے 19 ہزار کنٹینرز کراچی آئے جس کے استعمال سے کراچی جل رہا ہے۔

سپریم کورٹ میں جمعے کو کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نے کہا کہ اسلحے سے بھرے یہ کنٹینرز سابقہ دورِ حکومت میں وفاقی وزیرِ برائے پورٹس اینڈ شیپنگ کی زیرِ نگرانی کراچی آئے۔

انھوں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ اسلحہ استعمال ہو رہا ہے اور کراچی جل رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس ادارے اس کی تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔

’مہاجر رپبلکن آرمی کی موجودگی کا دعویٰ‘

ڈی جی رینجرز نے کہا کہ کراچی میں پرتشدد واقعات میں کلاشنکوف اور اکثر واقعات میں نو ایم ایم پستول کا استعمال ہوتا ہے جو امریکہ ، جرمنی اور درہ آدم خیل کے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں اسلحہ لائسنسوں کی تصدیق کی ضرورت ہے، یہ پیچیدہ کام ہے، لائسنسوں کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے اور اس بارے میں اسلحہ ڈیلروں کو اعتماد میں لیا جائے۔

ڈی جی رینجرز نے مزید کہا کہ ان کی وزیر ستان میں سروس کے دوران انھیں معلوم ہوا کہ امریکی فورسز کے زیرِاستعمال اسلحہ درہ آدم خیل میں فروخت ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اسلحے سے بھرے 19 ہزار کنٹینرز کی کراچی آمد کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا حکم دیا ہے جس کے سربراہ سابق کسٹم کلکٹر رمضان بھٹی ہوں گے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق یہ کمیٹی ایک ہفتے کے اندر کراچی میں اسلحے سے بھرے کنٹینرز کی آمد کے حوالے سے اپنی رپورٹ عدالت کو پیش کرے گی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سندھ کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی طرف سے کراچی کی صورتِ حال کے بارے میں پیش کردہ رپورٹ پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ سے کچھ سامنے نہیں آ رہا۔

انھوں نے سندھ حکومت کو کراچی میں امن وامان میں پیش رفت کے بارے میں دوبارہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے مقدمے کے سماعت کے دوران وفاق کی طرف سے جواب دینے کے لیے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ منگل کو وفاقی کابینہ کا اجلاس ہو رہا ہے جس کے بعد وہ عدالت میں حکومت کی طرف سے پالیسی بیان دے سکیں گے۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز وفاقی حکومت نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں ایک خفیہ رپورٹ پیش کی تھی جس میں ایک غیر معروف عسکری گروہ مہاجر ریپبلکن آرمی کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

لیکن مقامی ذرائعِ ابلاغ کے مطابق ملک کے وفاقی وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ یہ ایک ابتدائی رپورٹ جسے ان کی منظوری کے بغیر عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

بی بی سی کے پاس موجود اس رپورٹ کی کاپی میں کہا گیا ہے کہ مہاجر رپبلکن آرمی کے ارکان کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں اس گروہ کی سرگرمیاں اور مقاصد بیان نہیں کیے گئے۔

اسی بارے میں