صدر کے ملک چھوڑنے پر پابندی کی درخواست پر نوٹس جاری

Image caption سماعت میں وفاق اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے گئے کے وہ اپنے موقف سے آگاہ کریں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگانے کے حوالے سے دائر درخواست پر وفاق اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

یہ درخواست صحافی شاہد اورکزئی نے سپریم کورٹ میں دائر کی ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ صدر آصف علی زرداری کی آئینی مدت آٹھ ستمبر کو پوری ہو رہی ہے۔

اسامہ آپریش: ’صدر اور آرمی چیف کا رابطہ نہیں ہوا‘

اس درخواست میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے آپریشن کا علم صدر زرداری کو پہلے ہی سے تھا لیکن انہوں نے ملک کی مسلح افواج سے اس بارے میں معلومات کا تبادلہ نہیں کیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن صدر زرداری سے بھی پوچھ گچھ کرے اور جب تک وہ یہ نہیں کر لیتے تب تک صدر آصف علی زرداری کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس مقدمے کی سماعت کی۔

سماعت میں وفاق اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے گئے کے وہ اپنے موقف سے آگاہ کریں۔ اس کیس کی سماعت تین ستمبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اور بعد میں امریکی کارروائی کے دوران ان کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمشین تشکیل دیا تھا جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کررہے تھے۔

واضح رہے کہ تین مارچ 2012 کو پاکستانی صدر کے ترجمان اور فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی آر نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی کہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کے دوران صدر آصف علی زرداری اور فوج کے سربراہ کے درمیان ٹیلیفون پر کوئی بات چیت ہوئی تھی۔

پاکستان کے صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دو مئی کو اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کے روز پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی فوج کے سربراہ کو ٹیلیفون کال کے بارے میں بعض میڈیا رپوٹس غلط اور بے بنیاد ہیں۔

بیان کے مطابق ذرائع ابلاغ میں یہ رپورٹس شائع ہوئی ہیں کہ دو مئی کی رات کو اسامہ کے خلاف امریکی کارروائی کے موقع پر صدر زرداری نے فوج کے سربراہ کو ٹیلیفون کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ یہ کارروائی ان کی منظوری سے ہو رہی تھی۔

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں میمو سکینڈل کے مرکزی کردار منصور اعجاز کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے مبینہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یکم اور دو مئی 2011 کی رات کو پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ٹیلیفون پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی‘۔

اسی بارے میں