’گیارہ اگست کی تقریر ابھی تک نہیں ملی‘

Image caption پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے رواداری پر جو یادگار تقریر کی تھی اسے آل انڈیا ریڈیو نے پاکستان کے حوالے کرنے کی پیش کش کی ہے

پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے سابق سربراہ مرتضیٰٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر کے حصول کے لیے نہرو لائبریری کو شاید عدالتی حکم نامہ چاہیے ہو گا۔

مرتضیٰ سولنگی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے علم میں نہیں ہے کہ گیارہ اگست کی تقریر واقعی نہرو لائبریری میں ہے یا نہیں مگر ’آؤٹ لُک ایکسپریس کی جو خبر ہے جو کل چھپی ہے اس میں جو نہرو لائبریری کے جو سربراہ ہیں اُن کے ریمارکس خاصے منفی ہیں۔ مجھے لگتا ہے اُن کو کسی اور کورٹ کے حکم کی ضرورت ہے۔ ‘

محمد علی جناح کی تقاریر عام کرنے کا حکم

محمد علی جناح کا اہم خطاب خفیہ رکھا گیا؟

مرتضیٰٰ سولنگی نے ہمارے نامہ نگار طاہر عمران کو بتایا کہ ’محمد علی جناح کی تمام تقاریر ریڈیو پاکستان کے آرکائیو میں موجود تھیں اور ان کے دور میں ڈیجٹل بھی کر دی گئیں تھیں۔ لیکن گیارہ اگست کی تقریر، تین جون کی تقریر اور چودہ اگست کی تقریر یہ تینوں ہمارے پاس نہیں تھیں۔ دو مل گئی ہیں جبکہ گیارہ اگست کی ابھی تک نہیں ملی۔‘

اس سے قبل آل انڈیا ریڈیو نے پاکستان کو محمد علی جناح کی وہ دو تقریریں دینے کی پیشکش کی ہے جو اس کے ریکارڈ میں موجود ہیں جس کے لیے کوششیں مرتضیٰٰ سولنگی کے دور میں ریڈیو پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی تھیں۔

آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل لیلادھر مانڈلوئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو مطلع کردیا ہے کہ ہمیں اب وزارت خارجہ سے اجازت مل گئی ہے اور اب ہم یہ تقاریر انہیں دے سکتے ہیں۔ اب ان کے جواب کا انتظار ہے۔ وہ جس طرح بھی چاہیں گے انہیں یہ ریکارڈنگ فراہم کرادی جائیں گی۔‘

مرتضیٰٰ سولنگی نے بتایا کہ ’جب ان تقاریر کی آڈیو کی تلاش شروع کی گئی تو پتہ چلا کہ کراچی میں اس وقت ریڈیو سٹیشن نہیں تھا اور لاہور اور پشاور میں ریڈیو سٹیشن تھے جو ’کلاس بی‘ ریڈیو سٹیشن تھے اور اُن کے پاس ریکارڈنگ کی کوئی سہولت نہیں تھی۔ اس لیے آل انڈیا ریڈیو دہلی سے ایک ٹیم آئی تھی جس نے یہ تقاریر ریکارڈ کیں۔‘

انہوں نہ بتایا کہ ان ’آرکائیو کے لیے بی بی سی سے رابطہ کیا گیا مگر بی بی سی کے پاس ان تقاریر کا ریکارڈ نہیں تھا جس کے بعد آل انڈیا ریڈیو سے رابطہ ہوا اور نومبر دو ہزار گیارہ میں دہلی میں مجھے آل انڈیا ریڈیو کے بین الاقوامی شعبے نے بتایا کہ ان کے پاس اس تقریر کا ریکارڈ ہے۔ جس پر آل انڈیا ریڈیو نے ایک خط کا مطالبہ کیا‘۔

اس پر خط لکھا گیا جس کا دہلی میں موجود پاکستان کے ہائی کمشنر کے توسط سے جواب ملا کہ ان کے پاس گیارہ اگست کی تقریر تو نہیں مگر کچھ اور مواد ہے ’لیکن گیارہ اگست کی تقریر شاید آپ کو نہرو لائبریری سے ملے گی‘۔

مرتضیٰٰ سولنگی نے بتایا کہ ان میں سے ایک تقریر 14 اگست 1947 کی ہے جس میں بانی پاکستان نے مذہبی رواداری کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اکبر اعظم نے دوسرے مذہب پر عمل کرنے والوں کے تئیں جو رواداری اور خیر سگالی کا جذبہ اختیار کیا تھا وہ کوئی نئی بات نہیں تھی، اس کی بنیاد تیرہ سو سال پرانی ہے جب ہمارے پیغمبر نے یہودیوں اور عیسائیوں کو فتح کرنے کے بعد بھی ان کے ساتھ نہ صرف قول سے بلکہ عملاً بھی بہترین سلوک روا رکھا تھا۔‘

’انھوں نے ان کے ساتھ انتہائی روادارانہ سلوک روا رکھا اور ان کے مذہب اور عقائد کے لیے عزت و احترام کا مظاہرہ کیا۔ جہاں جہاں مسلمانوں نے حکمرانی کی، انہوں نے دوسرے مذاہب اور عقائد کے احترام کے ساتھ اسی ہمدردانہ اور عظیم اصول کی پیروی کی اور ہمیں اسی راستے پر چلنا چاہیے۔‘

دوسری تقریر تین جون 1947 کی ہے جو دہلی میں آل انڈیا ریڈیو سے نشر کی گئی تھی۔ اس کے دو مہینے بعد جناح پاکستان چلے گئے تھے۔ یہ تقریر برطانوی سامراجی حکومت سے ہندوستانی عوام کو اقتدار کی منتقلی کےمجوزہ منصوبے کے بارے میں تھی جس میں جناح بار بار امن قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

پہلے آل انڈیا ریڈیوں نے یہ تقریریں جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کا موقف تھا کہ ان سے پاکستان کے ساتھ رشتے متاثر ہوسکتے ہیں۔

اس خطاب کی کاپی حاصل کرنے کے لیے پی بی سی کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل مرتضیٰٰ سولنگی نے گزشتہ برس مارچ میں پرسار بھارتی حکام سے رابطہ کیا تھا لیکن پرسار بھارتی کا کہنا تھا کہ اس تقریر کی ریکارڈنگ اس کے پاس بھی نہیں ہے۔

انڈیا کے اخباروں میں یہ خبر چھی تو شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن سبھاش چندر اگروال نے پرسار بھارتی سے معلومات کے حق یعنی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ان تمام رہنماؤں کی تقاریر کی تفصیلات مانگیں جو تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے تھے۔

مسٹر اگروال نے چیف انفارمیشن کمیشن سے اپیل کی جس نے پرسار بھارتی کی دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 60 سال سے زیادہ گزر چکے ہیں اور تقریریں جاری نہ کرنے کا اب کوئی جواز نہیں ہے۔

اگروال کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی طور پر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ موجودہ پاکستان ویسا نہیں ہے جیسا جناح بنانا چاہتے تھے اور ’آج وہاں اقلیتوں کے ساتھ زیادتیاں عام ہیں۔‘

محمد علی جناح نے گیارہ اگست 1947 کو آئین ساز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نو تشکیل شدہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا ہر طرح سے تحفظ ہونا چاہیے، انہیں اپنے مندروں اور مساجد میں جانے کی آزادی ہو اور ریاست کو ان کے مذہبی عقائد سے کوئی سرو کار نہ ہو۔

اسی بارے میں