کراچی میں فوج کے بغیر آپریشن کی تیاریاں

Image caption کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جو بھی کارروائی ہو اس کی مدت کا تعین پہلے سے کیا جانا چاہیے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لاقانونیت کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک منظم، سوچی سمجھی اور نشانہ باندھ کر کارروائی کی قیادت خود کریں۔ وفاقی حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بابت وفاق اپنے تمام تر وسائل اور مشینری صوبائی حکومت کی کمانڈ میں دینے کو تیار ہے اور فوج کو اس میں ملوث کرنے کا اس کا فل الحال کوئی ارادہ نہیں۔

امن و امان چونکہ صوبائی معاملہ ہے لہٰذا وزیر اعظم نواز شریف بدھ کو یہ تجویز بھی لے کر اپنی کابینہ کے ہمراہ کراچی جا رہے ہیں۔ امید ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ سندھ کے سامنے یہی تجویز رکھیں گے اور ان کی رائے جاننا چاہیں گے۔ وفاقی حکومت محض یہ تجویز لے کر کراچی نہیں جا رہی مگر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نے چار نکاتی ابتدائی منصوبہ بھی تیار کیا ہے جو اس کے خیال میں کراچی میں لاقانونیت پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

محدود مدت کی کارروائی

ماہرین اور سرکاری اہلکار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ایک منظم منصوبے کے تحت کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جو بھی کارروائی ہو اس کی مدت کا تعین پہلے سے کیا جانا چاہیے۔ یہ صوبائی حکومت پر منحصر ہوگا کہ وہ اسے کتنی جلد مکمل کرسکتی ہے۔ اس کی طوالت کا انحصار نتائج پر منحصر ہوگا۔ ماہرین مانتے ہیں کہ کارروائی چند ہفتوں سے لے کر ایک یا دو ماہ تک ہو تو اچھا ہے ورنہ وہ اپنا اثر کھو دے گا۔

سیاسی وابستگی سے ہٹ کر کارروائی

اس حکمت عملی کا دوسرا اہم نکتہ پولیس اور اور خفیہ اداروں کے جرائم پیشہ عناصر سے متعلق مصدقہ معلومات کی بنیاد پر پولیس اور رینجرز کی مدد سے کارروائی کرنا اور اس دوران کسی سیاسی جماعت یا گروپ کو راستے میں رکاوٹ نہ بننے دینا ہے۔ کوشش ہونی چاہیے کہ کارروائی میں کسی سیاسی وابستگی کو ملحوظ نظر نہیں رکھا جانا چاہیے تبھی کامیاب ہوگی۔ اس بابت کراچی کی تمام سیاسی جماعتوں کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر اس کا کوئی رکن بھتہ خوری یا کسی دوسرے جرم میں ملوث پایا جاتا ہے تو اسے اس بچانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ یہ بھی امکان ہے کہ کسی ایک جماعت کا گروہ کے لوگ زیادہ گرفت میں آئیں ایسے میں اسے اس جماعت کے خلاف کارروائی تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ عدالتوں پر اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ ایسے اراکین کی مدد کو آئیں گی۔

’فوکسڈ تفتیش‘

گرفتار ملزمان کی تفتیش جامع ہو اور اکثر شواہد حراست میں لیے جانے سے پہلے مکمل ہو جانی چاہیے۔ محض شک کی بنیاد پر گرفتاری نہ ہو۔ اس بابت پولیس اور خفیہ اداروں کی کاکردگی نہایت اہمیت کی حامل ہوگی۔

تیز عدالتی سماعت

ماہرین کے خیال میں اس بابت چوتھا اور غالبًا اہم ترین نکتہ موثر اور تیز عدالتی کارروائی ہوگی۔ کوئی بھی بشمول حکومت نہیں چاہتا کہ گرفتاری کے دوسرے روز ہی ملزمان ضمانت حاصل کرکے رہا ہوجائیں۔ اس بابت گزشتہ دنوں ایک کراچی میں بم بنانے کی مبینہ فیکٹری کی مثال دی جا رہی ہے جس میں ایک پولیس اہلکار بھی مبینہ طور پر ملوث پایا گیا لیکن بعد میں عدالتی حکم پر اسے رہائی مل گئی۔ اس کے علاوہ عینی شاہدوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بارے میں بھی حکومت کو سوچنا ہوگا۔

پاکستان بھر اور خصوصاً کراچی میں لاقانونیت کی ایک بڑی وجہ اسلحے کی بھرمار بھی رہی ہے۔ آسانی سے دستیاب اسلحہ کے بارے میں بھی حکومت کو سوچنا ہوگا۔ ماضی میں اس بابت کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ کچھ مختلف ہوگا؟ عوامی نیشنل پارٹی پہلے ہی شہر کو اسلحے سے پاک کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اس وقت بظاہر قوم اور فوج دونوں کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ فوج کو اس کارروائی سے جتنی دور ہو سکے اسے رکھا جائے۔ اسے کسی سیاسی قضیے میں الجھانا اچھی حکمت عملی نہیں ہوگی۔ خود فوج بھی یہی سمجھتی ہے کہ کراچی کا مسئلہ اس کے نزدیک ایک سیاسی مسئلہ ہے۔

حکومت کے عہدیدار کہتے ہیں کہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ کراچی میں تقریبًا ہر جماعت کا عسکری بازو متحرک ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی ذرائع کو گزشتہ چند سالوں میں کراچی میں طالبان کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بھی تشویش ہے جو ان کے محتاط اندازوں کے مطابق اگر ہزاروں میں نہیں تو سینکڑوں میں ضرور ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کراچی میں حالات اس نوبت کو گزشتہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر مشتمل صوبائی انتظامیہ کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے مزید ابتر ہوئی ہے۔ لیکن اب بظاہر عوامی دباؤ میں دونوں اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہیں کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کو ایک بڑے آپریشن کی ضرورت ہے۔ ایم کیو ایم اس بابت فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کر رہی ہے جوکہ بظاہر حکومتی اور عوامی دونوں سطحوں پر زیادہ حمایت حاصل نہیں کر سکا ہے۔

سرکاری حلقوں کو احساس ہے کہ اگر منگل کے اجلاس میں کسی کارروائی پر اتفاق رائے ہوجاتا ہے تو ابتدائی چند دن کافی اہم ہوں گے لہذا کارروائی پر نظر رکھنے کے لیے تمام اہم سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک نگران کمیٹی بھی تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔

عوامی اور میڈیا کی سطح پر پہلے ہی کسی موثر کارروائی کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت کراچی کے مسئلے کے حل کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جاتا ہے یا یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر سیاست کی نذر ہو جائے گا۔

اسی بارے میں