بینظیر قتل کیس پیپلز پارٹی کی درخواست مسترد

Image caption بینظیر بھٹو کو دسمبر دو ہزار سات میں راولپنڈی میں ایک انتخابی جلسے کے بعد خودکش حملے میں قتل کر دیا گیا تھا

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سرکاری وکیل کے مطابق راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی اس مقدمے میں فریق بننے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سردار لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ عدالت نے اُن کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیا ہے۔

بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری اظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے اپنے حکم نامے میں پیپلز پارٹی کو اس مقدمے میں فریق بننے کی اجازت نہیں دی۔

’بینظیر بھٹو کو پورے گاؤں نے قتل کیا‘

بینظیر قتل کیس کے سرکاری وکیل قتل

’عدلیہ نے دوہرا معیار اپنا رکھا ہے‘

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج چوہدری حبیب الرحمن نے منگل کو بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کی۔

عدالت کا کہنا ہے کہ کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ کوئی سیاسی جماعت کسی مقدمے میں فریق بن سکےجبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سردار لطیف کھوسہ نے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج چوہدری حبیب الرحمنٰ کے سامنے پاور آف اٹارنی پیش کی۔

اُنہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن تھیں اور اُس کے بعد بلاول بھٹو زردرای ہیں اس لیے اس پارٹی کی خواہش ہے کہ اُنہیں بھی اس مقدمے میں فریق بنایا جائے اور اُن کا موقف سُنا جائے۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری اظہر کا کہنا تھا کہ قانون میں کوئی ایسی شق موجود نہیں ہے جس کی بنا پر کسی سیاسی جماعت کو قتل کے مقدمے میں فریق بنایا جا سکے۔ اُنہوں نے کہاکہ فوجداری مقدمات میں مقتول کے ورثاء فریق بن سکتے ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج نے اس کی تصدیق کی جس پر لطیف کھوسہ نے اس مقدمے میں فریق بننے پر زور نہیں دیا۔

یاد رہے کہ سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے چوہدری اظہر کو بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سرکاری وکیل مقرر کیا تھا۔

سردار لطیف کھوسہ کی طرف سے بینظیر بھٹو کے ساتھ خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے اُن کے نجی سیکورٹی گارڈ توقیر کائرہ کے والد کی طرف سے بھی اس مقدمے میں فریق بننے کی درخواست دی گئی جسے عدالت نے سماعت کے لیے منظور کر لیا۔

سردار لطیف کھوسہ نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ عدالت نے پیپلز پارٹی کی طرف سے فریق بننے کی درخواست کو مسترد نہیں کیا بلکہ عدالت نے ان دونوں درخواستوں کو ایک دوسرے کے ساتھ نتھی کر دیا ہے اور ان دونوں کی سماعت اب سترہ ستمبر کو ہوگی۔

سردار لطیف کھوسہ نے ایک اور درخواست دائر کی ہے جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پہلے ہی اس مقدمے کی سماعت کو پانچ سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اس لیے نئے ملزمان کی گرفتار ہونے پر اس مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع نہ کی جائے بلکہ اس مقدمے میں چھبیس گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں لہذٰا اس مقدمے کی کارروائی کو اس سے آگے بڑھایا جائے۔

یاد رہے کہ پرویز مشرف سمیت دیگر ملزمان پر فرد جُرم عائد کیے جانے کے بعد دوبارہ استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے اُنہیں طلب کیا تھا۔

اسی بارے میں