اصلاحات: ’پولیس افسران اثاثہ جات ظاہر کریں‘

Image caption تھانوں کے دوروں کے لیے پولیس افسران نامزد کیے گئے ہیں: ڈی آئی جی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس نے احتساب کی غرض سے صوبے کے تمام پولیس افسران کو پندرہ دن کے اندر اپنے تمام منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات ظاہر کرنے کا کہا ہے۔

پولیس کے محکمے نے انسپکٹر جنرل پولیس سے لے کر ایس ایچ اوز تک تمام پولیس افسران سے ان کے اثاثہ جات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اس کے لیے پولیس کے احتساب کمیشن نے ایک فارم جاری کیا ہے جس میں منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات کے بارے میں تفصیلات فراہم کی جا سکیں گی۔

پشاور میں ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آپریشن محمد یامین نے بتایا کہ یہ کارروائی کسی افسر کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے ۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کرپشن کے خلاف مہم تو پہلے بھی شروع کی گئی تھی لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اب سٹرکچرل تبدیلیاں لائی گئیں ہیں اور اب ایسی ٹیمیں کام کر رہی ہیں جو بدعنوانی میں ملوث افسران پر کڑی نظر رکھیں گے اور ان کی نشاندہی بھی کر سکیں گے‘۔

انھوں نے کہا کہ انسپکٹر جنرل پولیس نے ایسی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو صوبے میں قائم پولیس تھانوں کے اچانک دورے کریں گے جہاں وہ تھانے کی عمارت میں صفائی کی صورتحال ، عملے کی کارکردگی، ان کی وردی کی حالت اور ان کے رویے کو نوٹ کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے صوبے کی تمام علاقوں کے لیے اعلیٰ افسران کو نامزد کر دیا گیا ہے جو تھانوں کے دورے کرکے اپنی رپورٹس انسپکٹر جنرل پولیس کو دیں گے۔

خیبر پختونخوا میں پولیس کے احتساب کمیشن نے محکمے میں اصلاحات کی غرض سے مزید فیصلے بھی کیے ہیں اور محکمۂ پولیس میں مختلف قسم کی تقریباً پینتیس اصلاحات کی گئی ہیں۔ ان میں آن لائن ایف آئی آر کے علاوہ تھانوں میں خواتین ڈیسک کا قیام، واقعات کی تجزیات کے لیے اور عوامی شکایات کو جہاں توجہ نہ دی جا رہی ہو کے لیے ٹیموں کی تشکیل شامل ہے۔

ڈی آئی جی محمد یامین نے بتایا کہ پولیس کے محکمے میں سزا اور جزا کا ایک نظام نہیں ہے لیکن اب کرپشن کو ایک بڑے ایجنڈے کے طور پر لیا گیا ہے تاکہ اصلاحات کی جا سکیں اور اگر کوئی ایسے عناصر ان کے محکمے میں موجود ہیں تو ان کی نشاندہی ہو سکے۔

اسی بارے میں