کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کا فیصلہ

Image caption وزیرِاعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائی گی جو اس آپریشن کو نگرانی کرے گی اور اس کو کنٹرول کرے گی

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کراچی میں کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ کراچی میں رینجرز کی سربراہی میں فوری طور پر ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ داخلہ کے ہمراہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ قائم علی شاہ اور گورنر سندھ عشرت العباد بھی موجود تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’وفاقی سول اور ملٹری انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پاس سینکڑوں شرپسند عناصر کے نام ہیں جن کے خلاف رینجرز کی سربراہی میں ٹارگٹڈ آپریشن ہو گا۔‘

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وزیرِاعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائی گی جو اس آپریشن کی نگرانی کرے گی اور اس کو کنٹرول کرے گی۔

’کراچی کے شہری رینجرز کے نشانے پر‘

کراچی میں فوج کے بغیر آپریشن کی تیاریاں

’مذاکرات کے ذریعے ہی امن قائم کرنا چاہتے ہیں‘

کراچی کے لیے ’امن حکمتِ عملی‘ کی تیاری

انھوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے اور اس کمیٹی کا ہفتہ وار اجلاس ہوگا۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق انہوں نے بتایا کہ ڈی جی رینجرز کی سربراہی میں ایک آپریشنل کمیٹی بنائی جائے گئی جس میں آئی جی سندھ اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ’اس کے علاوہ ہر ضلعے میں ایک پولیس تھانہ فوکل سٹیشن ہوگا جہاں سنگین نوعیت کے مقدمات میں رینجرز اہلکار بھی تفتیش کا حصہ ہوں گے۔‘

وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ وفاقی وزیر زاہد حامد کی سربراہی میں ایک دوسری کمیٹی بنائی جائے جس میں سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل، ایم کیو ایم کے فروغ نسیم ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ کمیٹی پراسیکیوشن اور قانون شہادت میں سقم کو دور کرنے کے لیے تجاویز پیش کرے گی۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ آئی جی سندھ کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ سندھ پولیس میں اصلاحات لائیں اور اس کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کریں۔

انھوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ رینجرز کو جرائم پیشہ افراد کو حراست میں لینے، ان سے تفتیش کرنے اور دیگر معمالات کے حوالے سے خدشات ہیں جنھیں ایک پالیسی گائیڈ کو منظور کرکے دور کیا جائے گا۔

اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کراچی میں وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بدامنی سے نمٹنے کے لیے رینجرز کو مرکزی کردار دینے کی تجویز پیش کی تھی۔

انھوں نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پولیس اس قابل نہیں ہے کہ وہ جرائم پیشہ افراد کا مقابلہ کرسکے یا دہشت گردی کا انسداد کرسکے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دہشت گردی کی جکڑ میں ہے، جس کے نتیجے میں کئی لوگ مارے جاچکے ہیں اور مارے جا رہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ کراچی بھی اسی لہر کی زد میں ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاھ بھی موجود تھے، پولیس میں بھرتیوں کے حوالے سے انہیں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

نواز شریف کا کہنا تھا ’میں نے سید قائم علی شاہ سے یہ دریافت کیا ہے کہ یہاں پولیس میں بھرتیاں سیاسی بنیادوں، سفارش یا رشوت کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ نچلی سطح پر جو بھرتیاں ہوئی ہیں وہ میرٹ پر کی گئیں اوپر کی سطح پر بھرتیاں جو ایس ایس پی، ایس پی یا ڈی ایس پی تھیں انہیں دوسرے محکموں سے پولیس میں لایا گیا ہے۔ اس بارے میں قائم علی شاھ زیادہ بہتر انداز میں بتاسکتے ہیں۔‘

وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ کراچی واٹر بورڈ سے پولیس میں تبادلے کیے گئے ہیں اور اس قسم کی کئی اور مثالیں موجود ہیں۔

میاں نواز شریف نے پولیس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں پولیس سے یہ توقع کرنا کہ وہ لوگوں کو تحفظ دے گی یا کراچی میں امن قائم کرے گی ممکن نہیں ، انہوں نے وزیراعلیٰ سے معلوم کیا کہ ہے کہ ان کی کیا رائے ہے اگر یہ ذمے داری رینجرز کے سپرد کی جائے۔ ’میں اس کارروائی کو آپریشن نہیں کہتا اور کہنا بھی نہیں چاہیے درحقیقت ایک بھرپور اور منظم چلانے کی ضرورت ہے۔‘

یاد رہے کہ کراچی میں رینجرز کے پاس پولیس کے اختیارات موجود ہیں، جس کے تحت رینجرز کو پولیس کی طرح چھاپے مارنے، گرفتاریوں اور تفتیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان اختیارات ملنے کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی شکایت سامنے آرہی ہیں، ان واقعات میں رینجرز کی فائرنگ میں کچھ شہریوں کی ہلاکت بھی شامل ہے، جن کی سماعت کے موقعے پر عدالتوں نے رینجرز کی کارکردگی پر سوال اٹھائے تھے۔

سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے موقعے پر وفاقی حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ کراچی شہر میں رینجرز اور ایف سی کے ساڑھے بارہ ہزار جوان موجود ہیں، جو شہر میں گشت کے علاوہ، غیر ملکی سفارت خانوں، کمپنیوں، جیلوں اور اہم شخصیات کی حفاظت پر بھی مامور ہیں۔

اس اجلاس میں آئی ایس آئی کے سربراہ اور رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اسی بارے میں