کراچی میں فائرنگ سے نیوی کا افسر ہلاک

Image caption کراچی میں گزشتہ سال تشدد کے واقعات میں بارہ سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نیوی کے ایک افسر فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کابینہ کے اجلاس سے پہلے وزیراعظم نے بدھ کو ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں آئی ایس آئی کے سربراہ اور نیم فوجی دستے رینجرز کے ڈی جی اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

’مذاکرات کے ذریعے ہی امن قائم کرنا چاہتے ہیں‘

کراچی کے لیے ’امن حکمتِ عملی‘ کی تیاری

’کراچی میں اسلحے سے بھرے 19 ہزار کنٹینرز کی آمد‘

’مہاجر رپبلکن آرمی کی موجودگی کا دعویٰ‘

اس کے بعد وزیراعظم نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی ہے۔ اس بات چیت کو صرف چند منٹ کے لیے ہی سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا پر براہ راست نشر کیا گیا۔

بدھ کی صبح کراچی کے نیشنل سٹڈیم کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں نیوی کے افسر ہلاک اور ان کی اہلیہ شدید زخمی ہوگئی ہیں۔

Image caption کراچی مشکلات سے دوچار ہے میں اس کی ہر طرح سے مدد کرنا چاہتا ہوں: نواز شریف

ڈی آئی جی پولیس طاہر نوید کا کہنا ہے کہ کیپٹن ندیم اپنی کار میں اہلیہ کے ساتھ گھر سے نکلے تھے کہ نیشنل سٹڈیم موڑ کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے ان پر فائرنگ کر دی، جس میں کیپٹن زاہد اور ان کی اہلیہ زخمی ہوگئے بعد میں کیپٹن زاہد دم توڑ گئے۔

ان دن پہلے منگل کو کراچی میں وزیراعظم میاں نواز شریف گورنر ہاؤس کراچی میں سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی۔

اس اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ نون، سنی تحریک، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور شہر میں قیام امن کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔

وزیرِاعظم نواز شریف نے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ہمارا یہاں آنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم پچھلے دنوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہاں کوئی کہہ رہا ہے کہ فوج کو بلایا جائے کوئی ٹارگٹڈ آپریشن کی بات کر رہا ہے، کسی کا مطالبہ ہے کہ شہر کو رینجرز کے حوالے کیا جائے۔ ہم ان سب باتوں کا جائزہ لینے یہاں آئے ہیں۔‘

تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے یہ کہہ کر مشاورتی کانفرنس میں شرکت نہیں کی کہ انھیں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

اس کے بعد وزیراعظم نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں اور حکومت قیام امن کے لیے سنجیدہ ہے۔

’ کراچی میں بڑے بڑے چیلینجز ہیں جب تک مل کر حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے حل ممکن نہیں۔کراچی معاشی مرکز ہے جو اس وقت مشکلات سے دوچار ہے۔ میں اس کی ہر طرح سے مدد کرنا چاہتا ہوں۔‘

دریں اثنا تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے یہ کہہ کر مشاورتی کانفرنس میں شرکت نہیں کی کہ انھیں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کےخصوصی اجلاس میں ڈاکٹر فاروق ستار کی شرکت کا دعوت نامہ منسوخ کردیا گیا ہے جس کی انھوں نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی کے مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہے۔

سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں صرف ایک جماعت کی شرکت دوسری جماعتوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔

وزیرِاعظم کی شہر میں موجودگی کے موقعے پر سندھ پولیس نے بھی اپنی کارکردگی کا اظہار کیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ کراچی کی صورتحال قابل اطمینان ہے۔

ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ آٹھ ماہ میں 661 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ان کارروائیوں کے دوران سو سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

’پولیس کو اسی لیے ہی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے کہ اس نے متحرک کردار ادا کیا ہے۔ پولیس کا حوصلہ بلند ہے۔ مسائل کے باوجود پولیس کام کر رہی ہے اور مقابلوں میں مصروف ہے۔ پولیس کسی سے نہیں ڈرے گی۔‘

اسی بارے میں