’رینجرز صرف جھاڑو پھیر سکتے ہیں‘

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں قیام امن کے لیے وفاقی حکومت نے بظاہر تو مجوزہ آپریشن کی سربراہی وزیر اعلیٰ کو دینے کی بات کی تھی لیکن عملی طور پر اس کے نگران ڈائریکٹر جنرل رینجرز ہوں گے۔

لیاری سے اٹھنے والی بدامنی کی حالیہ لہر کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے شہر میں فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا جبکہ سندھ کی حکومت اور دوسری جماعتیں پولیس اور رینجرز کی مدد سے کارروائی کی حمایت کرتی رہیں لیکن وفاقی حکومت نے اپنے ماتحت ادارے رینجرز کو مرکزی کردار سونپ دیا۔

کراچی میں رینجرز کے پاس پہلے ہی انسدادِ دہشت گردی کی ایکٹ کی شق چھ کے مطابق چھاپوں، گرفتاریوں اور تفتیش کے اختیارات موجود ہیں، اگلے مرحلے یعنی عدالت میں پیش کرنے کے لیے ملزمان کو پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے۔

پولیس اختیارات ملنے کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایت سامنے آئیں، ان واقعات میں رینجرز کی فائرنگ میں کچھ شہریوں کی ہلاکت بھی شامل ہے جن کی سماعت کے موقعے پر عدالتوں نے رینجرز کی کارکردگی پر سوال اٹھائے تھے۔

انسانی حقوق کمیشن کے رہنما آئی اے رحمان کا کہنا ہے کہ قانون کی عملداری قائم کرنے کے لیے پولیس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ پولیس کی عام لوگوں سے ڈیل کرنی کی تربیت ہوتی ہے اور اس کے پاس ضابطہ موجود ہے۔

’پولیس میں جو خامیاں یا بدعنوانیاں ہیں اس کو دور کرنا ایک دوسری بات ہے۔ لیکن پولیس کو نظام سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ رینجرز تربیت یافتہ نہیں قانون کی عملداری قائم کرنے کے لیے وہ صرف ایک قسم کی جھاڑو پھیر سکتے ہیں‘۔

انسانی حقوق کمیشن کے سینیئر رہنما کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کراچی کے معاملات سدھارنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کتنا کردار ہوسکتا ہے۔ ’ وہاں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لاقانونیت ہے لیکن وہاں جو سیاسی، اقتصادی اور سماجی وجوہات ہیں ان کا علاج تو رینجرز کے پاس نہیں ہے‘۔

کراچی میں رینجرز اور ایف سی کے 12,500ر جوان موجود ہیں، چند روز پہلے ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کراچی میں بدامنی کا ذمے دار پولیس کے ساتھ رینجرز کو بھی قرار دیا ہے۔ پولیس میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں اور تعیناتی کی بھی شکایت سامنے آئیں۔

سندھ پولیس کے سابق سربراہ جہانگیر مرزا کا کہنا ہے کہ پولیس پر لوگوں کا اعتماد نہیں رہا؟ اس میں قصور پولیس والوں کا ہے یا ان کا جو ان کے پیچھے بیٹھ کر سمت کا تعین کرتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق کام لینے کے خواہشمند ہوتے ہیں، ان کا مقصد یہ ہی ہوتا ہے کہ سیاست دانوں کے کاموں کو فوقیت دیں اور عام لوگوں کے کام کو ایک طرف کرکے رکھا جائے ۔

’پولیس ایک دم سے تو خراب یا کرپٹ نہیں ہوئی ان کو ایسا کرنے والے کون ہیں؟ جس وقت سیاست دانوں کا یہ طرز عمل ٹھیک ہوجائے گا تو پولیس بھی ٹھیک ہوجائیگی‘۔

جہانگیر مرزا کے مطابق پولیس کا مورال پہلے ہی بری طریقے سے متاثر ہے اس کو مزید متاثر کیا گیا ہے پتہ نہیں یہ اپنی ناک سے آگے کیوں نہیں سوچتے، جو خود مختیاری دیکر پولیس کام نہیں لے رہے۔

’ رینجرز کو پولیس کی الف ب کا نہیں پتہ، ان کی تربیت نہیں ہوئی اس کو یہ مرکزی کردار دینا چاہتے ہیں، رینجرز کو پولیس کے ماتحت رکھنا ہوگا تاکہ وہ اسی ڈسیپلین میں رہے کر کام کرسکے‘۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے قبل ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے پولیس کی کارکردگی بیان کی اور یہ بھی بتایا کہ آٹھ ماہ میں ان کے 103 ساتھی ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوئے۔

کراچی کو پولیس انتظام کے تحت چھ اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے شہر میں تقریبا دو کروڑ کی آبادی کے لیے 100 سے زائد تھانے موجود ہیں۔ کابینہ کے فیصلے کے مطابق کراچی کے ہر ضلعے میں ایک تھانے کو فوکل پوائنٹ بنایا جائے گا جہاں پولیس کے ساتھ ملزمان سے رینجرز بھی تفتیش کرے گی۔

پولیس اور رینجرز دبے دبے الفاظ میں ایک دوسری کی کارکردگی پر تنقید کرتے رہے ہیں، یہ تنقید ٹکراؤ میں تبدیل ہونے کے خدشات موجود ہیں۔

اسی بارے میں