خیبر پختونخوا میں نانبائیوں کی ہڑتال

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نانبائیوں کی ہڑتال بدھ کو دوسرے روز بھی جاری رہی لیکن جہاں چند دکانیں کھلی تھیں وہاں ایک روٹی 20 روپے سے 30 روپے تک فروخت ہوتی رہی۔

نانبائئوں کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمت میں اضافے کے ساتھ روٹی کی قیمت بھی بڑھائی جائے جبکہ انتظامیہ کے مطابق نانبائی غیر ضروری اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

شہر میں نانبائیوں کی ہڑتال کی وجہ سے کچھ مقامات پر دکانیں کھلی رہیں جہاں لوگوں کا رش رہا یہی وجہ تھی کہ ان نانبائیوں نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روٹی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔ بعض نانبائی ایک روٹی 20 سے 30 روپے تک فروخت کرتے رہے۔

نانبائی ایسوسی ایشن کے صدر محمد اقبال نے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ ایک سال پہلے 120گرام وزن کی روٹی کی قیمت 6 روپے مقرر کی گئی تھی اور کچھ عرصے میں آٹے کی قیمت 3,000 روپے سے بڑھ کر 3,800 روپے تک ہو گئی ہے لیکن روٹی کی قیمت نہیں بڑھائی جا رہی۔

ان سے جب پوچھا کہ 100گرام سے بھی کم وزن کی روٹی تو کافی عرصے سے 10 روپے میں فروخت ہو رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ جن نانبائیوں نے نرخنامے کی خلاف ورزی کی ہے انھیں جرمانے بھی کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ 130 گرام کی روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کی جائے اور اس پر پھر عمل درآمد بھی ہو۔

شہر میں ایک سال سے 100 گرام سے کم وزن کی روٹی 10 روپے میں فروخت ہو رہی تھی جبکہ سرکاری نرخنامے کے مطابق نانبائی 120گرام کی روٹی 6 روپے میں فروخت کرنے کے پابند تھے۔

نانبائیوں کے پاس موجود آٹے کا معیار بھی انتہائی ناقص ہوتا ہے اور اس کے علاوہ روٹی کی تیاری میں حفظان صحت کے اصولوں کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا۔

مقامی انتظامیہ سے اس بارے میں رابطے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن نہ تو ڈپٹی کمشنر اور نہ ہی اسسٹسنٹ کمشنر اپنا موقف بیان کرنے کے لیے موجود تھے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نانبائی غیر ضروری مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کے خلاف جلد کارروائی کی جائے گی۔

پشاور میں 300 سے زیادہ نانبائیوں کی دکانیں ہیں اور یہاں بیشتر لوگ گھروں کے لیے بھی روٹی بازار سے خرید کر جاتے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں گھروں میں روٹی پکانےکا رواج یہاں ختم ہوتا جا ہا ہے ۔

اسی بارے میں