جھمپیر میں ہوا چکی کے منصوبے کا معاہدہ

Image caption اس منصوبے پر نو ارب چیانوے کروڑ روپے کی لاگت آئےگی

پاکستان میں امریکی سفیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے اور سستی بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبے شروع کیے جائیں گے جس میں امریکی سرمایہ کار اہم کردار ادا کریں گے۔

اسلام آباد میں پاکستان اور امریکہ نے بدھ کو ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ایک امریکی اوورسیز پرائیوٹ انوسٹمنٹ کارپوریشن (او پی آئی سی) سندھ کے ساحلی علاقے تحصیل جھمپیر کے گاروکٹی بندر میں ہوا سے پچاس میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام کا آغاز کرےگی۔

اس منصوبے پر نو ارب چھیانوے کروڑ روپے کی لاگت آئےگی۔

سمجھوتے پر دستخط کرنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کہا کہ اس منصوبے کے مکمل ہونے سے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی کیونکہ قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے اہم ہوتا ہے۔

’یہ منصوبہ توانائی کی پیداوار اور مضبوط پاکستان کے لیے او پی آئی سی اور امریکی کوششوں کامنہ بولتا ثبوت ہے۔‘

رچرڈ اولسن کے مطابق مستقبل میں پاکستان میں سستی بجلی کے کئی منصوبے شروع کرنے کے لیے امریکی سرمایہ کار اور کمپنیوں کو راغب کیا جائےگا تاکہ عوام پر مہنگائی کے بوجھ کو کم کر کے انھیں خوشحال بنایا جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان مہنگے تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے سستی بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبوں پر مل کرکام کر رہے ہیں۔

ایک امریکی سروے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہوا سے ایک لاکھ بتیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

خیال رہے کہ او پی آئی سی ایک امریکی مالیاتی ادارہ ہے جس نے انیس سو پچتھر سے اب تک پاکستان میں ایک سوتیس مختلف منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔

یہ ادارہ پاکستان سمیت ایک سو پچاس ممالک میں سرمایہ کاری کے لیے مختلف امریکی کمپنیوں کی مالی معاونت، اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے۔

اسی بارے میں