خیبر پختونخوا: پارلیمانی سیکرٹریز کی ’فوج‘

Image caption اٹھارویں ترمیم کے تحت اب صوبائی حکومتیں اپنے کوٹے سے زیادہ وزراء نہیں مقرر کر سکتے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں پاکستان تحریک انصاف کی مخلوط حکومت نے صوبائی اسمبلی کے بتیس ممبران کو پارلیمانی سیکرٹریز مقرر کرکے صوبے کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔

وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر خیبر پختون خوا نے وزیراعلیٰ کے مشورے سے دو معاونین خصوصی برائے وزیر اعلیٰ اور بتیس ممبران صوبائی اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹریز مقرر کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں کُل ایک سو چوبیس نشستیں ہیں جن میں سے حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی پانچ اتحادی جماعتوں کے پاس کُل 80 نشستیں ہیں۔

ان اسی اراکین میں سے اکسٹھ اراکین کسی نہ کسی صورت میں عہدیدار ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق حکمران اتحاد کے اراکین میں سے چودہ وزراء، بتیس پارلیمنٹری سیکرٹریز، چار مشیر، سات معاونین خصوصی ہیں۔

سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور وزیر اعلیٰ کو ملا کر یہ تعداد ساٹھ بن جاتی ہے۔

ان بتیس پارلیمنٹری سیکرٹریز کو تین ستمبر کو وزیراعلیٰ نے خصوصی حکم نامے کے تحت مقرر کیا تاہم ان کی زمہ داریوں کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔

ان پارلیمانی سیکرٹریز میں بیشتر ارکان تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں جو مبینہ طور پر کوئی عہدہ نہ ملنے کی وجہ سے حکومت سے ناراض تھے اور جنھوں نے اسمبلی کے اندر ایک الگ گروپ بنایا ہوا تھا جسے ’فارورڈ بلاک‘ کہا جا رہا تھا۔

تاہم وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ان میں اکثریت کو بروقت عہدے دے کر پارٹی کے اندر کسی کی ممکنہ بغاوت کے امکان کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ابھی تک واضح نہیں کہ ان پارلمیانی سیکرٹریز کو کس قسم کے مراعات حاصل ہونگیں مگر مبصرین کے مطابق بظاہر ان کی تقرری کا مقصد یہی نظر آتا ہے کہ کسی طریقے سے اپنے اراکین کو نوازا جاسکے تاکہ وہ حکومت کے خلاف کسی ممکنہ بغاوت میں شامل نہ ہوسکے۔

یاد رہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت اب صوبائی حکومتیں اپنے کوٹے سے زیادہ وزراء نہیں مقرر کر سکتیں اس لیے حکومت میں شامل یا اتحادی جماعتوں کو خوش رکھنے کےلیے اس طرح کی طریقوں سے نوازا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ پرویزخٹک پچھلے تین مہینوں سے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ یکم سمتبر سے لوگوں کو صوبے میں واضح طورپر تبدیلی نظر آئےگی۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اگرچہ کچھ حد تک صوبے کے بڑے بڑے شہروں میں تبدیلی نظر بھی آرہی ہے تاہم حکومت کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کےلیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے جس کےلیے انھیں وقت کی بھی ضرورت ہے۔

صوبائی حکومت ابتداء سے جس چیز پر زیادہ زور دے رہی ہے وہ کرپشن کے خاتمے اور اخراجات میں کمی ہے۔ تاہم پار لیمانی سیکرٹریز کی ’فوج’ مقرر کرنے سے اب ہر طرف سے تنقید کی جارہی ہے۔

ایک سو چوبیس ممبران پر مشتمل صوبائی اسمبلی میں اب سترہ کے قریب ارکان ایسے رہ گئے ہیں جن کے پاس کوئی عہدہ نہیں ہے جبکہ دیگر تمام ممبران حکومتی اتحاد کا حصہ ہے۔

حکمران اتحاد میں جو ممبران بغیر کسی عہدے کے رہ گئے ہیں ان کو ڈیڈک (اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے سربراہ) کے چیئرمین یا چئیر پرسن کے طورپر لیا گیا ہے۔

خیبر پختون خوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما سردار حسین بابک کا کہنا ہے کہ تبدیلی کانعرہ لگانے والوں نے بتیس پارلیمانی سیکرٹریز مقرر کرکے صوبے کی تاریخ میں نیا اضافہ کردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’حکومت کرپشن اور اخراجات میں کمی کا ڈھنڈورا تو بڑی زورو شور سے پیٹ رہی ہے لیکن دوسری طرف ان کو یہ نظر نہیں آرہا کہ اتنے پارلیمانی سیکرٹریز مقرر کرنے کی آخر ضرورت کیا ہے، یہ کرپشن نہیں تو اور کیا ہے۔‘

ادھر وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک کے ترجمان شیراز پراچہ نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ پارلیمانی سیکرٹریز کی تقرری قواعد و ضوابط کے تحت کی گئی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ نئے پارلیمانی سیکرٹریز کی تقرری کا مقصد صوبائی وزراء کی مدد کرنا اور صوبائی اسمبلی کی کاروائی کو مزید مفید اور کارآمد بنانا ہے۔

انھوں نے مزید وضاحت کی کہ پارلیمانی سیکرٹریز صوبائی کابینہ کا حصہ نہیں ہونگے بلکہ یہ صوبائی وزراء کے کام میں معاونت کرینگے۔

اسی بارے میں