پشاور: اہم دہشت گردوں کے لیے علیحدہ جیل

Image caption اس جیل کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں اور اسے جلد سے جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی، حکام

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں اہم شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے لیے ایک علیحدہ جیل قائم کی جا رہی ہے جس میں سکیورٹی کا جدید نظام نصب ہوگا۔

حکام کے مطابق یہ جیل مردان شہر میں قائم کی جا رہی ہے جس کے ابتدائی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، یہ سینٹرل جیل ہو گی اور اس میں حفاظتی انتظامات بین الاقوامی سطح کے ہوں گے۔

وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کے ترجمان شیراز پراچہ نے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ اس جیل میں اہم قیدیوں کو رکھا جائے گا تاکہ ماضی میں جیلوں پر حملوں کے جو واقعات پیش آئے ان سے بچا جا سکے۔

حکام کے مطابق اس جیل میں تعینات عملے کو مکمل تربیت فراہم کی جائے اور میں پولیس لائن ، علیحدہ کمرے اور ایسا مرکز ہو گا جہاں سے قیدی خود باہر نہیں نکل سکیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس جیل کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں اور اسے جلد سے جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

حکام کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل مردان میں بھی سکیورٹی کا بہتر نظام نصب کرکے اس کے حفاظتی انتظامات مذید بہتر بنائے جا رہے ہیں ۔

شیراز پراچہ کے مطابق جب تک نئی جیل کا منصوبہ مکمل نہیں ہوتا تب تک اس جیل میں تمام حفاظتی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جس کے بعد یہ فیصلہ ہو گا کہ یہاں کس قسم کے قیدیوں کو رکھا جائے گا ۔

محکمہ داخلہ کے حکام نے بتایا ہے کہ یہ منصوبہ چند ماہ میں مکمل ہو جائے گا اور پھر اس میں قیدیوں کو منتقل کر دیا جائے گا۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ ابتدا میں شدت پسند، دہشت گرد اور بڑے جرائم میں ملوث قیدیوں کو ڈسٹرکٹ جیل مردان منتقل کیا جائے گا اور جب بڑی جیل کی تعمیر مکمل ہو جائے گی پھر ان قیدیوں کو اس جیل میں منتقل کر دیا جائے گا ۔

بین الاقوامی سطح کی اس جیل کے قیام کا فیصلہ بنوں جیل پر حملے کے بعد کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ بنوں جیل سے 400 اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل سے 250 قیدیوں کو فرار کرا لیا گیا تھا۔

ان جیلوں پر حملوں کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ موجودہ جیلیں پرانی ہیں اور یہاں جدید سہولیات موجود نہیں ہیں جس وجہ سے شدت پسند ان جیلوں پر حملوں اور یہاں سے قیدیوں کو فرارکرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ان دونوں جیلوں پر حملوں کے بعد سینٹرل جیل پشاور اور سینٹرل جیل ہری پور کی سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ان جیلوں میں بعض اہم قیدی موجود ہیں جن میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لیے مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں