’رینجرز تو خود ایک مسئلہ ہیں‘

Image caption رینجرز دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں تین سے زائد بڑے آپریشن کا حصہ رہی ہے

نواز شریف حکومت نے کراچی میں رینجرز کو ہدف یا ٹارگیٹیڈ آپریشن کے فرائض تفویض کیے ہیں جو فورس سنہ 1990 سے لےکر آج تک کراچی سمیت سندھ کے لینڈ سکیپ کا مستقل حصہ بنی ہوئی ہے۔ رینجرز کراچی یا سندھ سےگئی کب تھی کہ پھر سے طلب کر لی گ‏ئی ہے؟

کراچی سمیت سندھ میں گذشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں تین سے زائد بڑے آپریشن کیےگئے ہیں جن کے نتیجے میں مبینہ طور پر بے شمار ماورائے عدالت قتل، تشدد اور ٹارگٹ کلنگز بشمول پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والوں کے ہوئی ہیں لیکن کراچی کے حالات میں ذرا برابر بھی فرق نہیں آیا۔

کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ

سنہ 1991 میں سندھی لوک فنکار گلشیر تیونو کی ہلاکت سے لےکر کراچی میں نوجوان سرفراز شاہ کی ہلاکت تک رینجرز کراچی سمیت سندھ کے بگڑے حالات کا حصہ تو رہی ہے لیکن مسئلے کا حل نہیں۔

کراچی سمیت سندھ میں تعلیمی ادارے، ہاسٹلز، کھیلوں کے میدان ،یہاں تک کہ قومی ورثے کی عمارات تک رہائشی اور آپرینشنل کمیپوں کے طور پر رینجرز کے زیر استعمال رہی ہیں۔

کراچی یونیورسٹی اور سندھ یونیورسٹی جامشورو کے امن مان کی ذمہ داریاں بھی رینجرز کے کنٹرول میں رہی ہیں اس کے باوجود ان کیمپسوں میں خون خرابہ اور خاص طور سندھ یونیورسٹی میں پروفیسر اور طلبہ کے قتل بھی ہوتے رہے۔

Image caption رینجرز سنہ 1990 سے لےکر آج تک کراچی سمیت سندھ کے لینڈ سکیپ کا مستقل حصہ بنی ہوئی ہے

نواز شریف اور ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون تیسری بار وفاق میں اقتدار میں ہیں اور تیسری مرتبہ کراچـی میں آپریشن ہو رہا ہے۔

نواز شریف حکومت کا ماضی میں دو سے زائد بار خاتمہ ہوا۔ وزرائے اعظم تبدیل ہونے سے نہ آپریشن رکے، نہ ٹارگٹ کلنگز اور نہ ہی ماورائے عدالت قتل۔ ایک دفعہ تو نواز شریف سے بینظیر بھٹو کو سندھ کی صورتحال اور اس کے خلاف لگاتار آپریشنز ورثے میں ملے لیکن نتیجہ صرف ماورائے عدالت قتل۔

کراچی میں آپریشن کے کامیاب نتائج کا لرزہ خير اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی کراچی آپریشن میں حصہ لینے والے تمام کے تمام پولیس افسران قتل کردیےگئے۔

ایسا بھی ہوا کہ نواز شریف نے آخری دفعہ گورنر سندھ اور ملک کی ہر دلعزیز شخصیت حکیم محمد سیعد کے قتل کے پس منظر میں سندھ کی حکومت کی چھٹی کرا دی اور اس کی جگہ فوجی آمر جنرل ضیاء کے دنوں کے سندھ میں وزیر اعلیٰ اور اس وقت کے اپنی پارٹی کے معتمد خاص سید غوث علی شاہ کو سندھ کا مشیر اعلیٰ مقرر کر کے شہر کراچی میں خصوصی فوجی عدالتیں قائم کیں۔ لیکن نتیجہ صفر۔

سوائے اس کے کہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کو خصوصی فوجی عدالتوں سے پھانسی کی سزائيں ہوئيں اور ایمنسنٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ایسی سزاؤں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی۔

پھر فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں نواز شریف حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد کراچی میں ایم پی اے ہاسٹل رینجرز کی زیر نگرانی نیب کا حوالاتی اور تشویشی مرکز بنا جہاں خود سندھ کے معزول مشیر اعلیٰ غوث علی شاہ اور وزیر اسماعیل راہو سمیت نواز شریف حکومت کے کئی لوگوں کو کئی ماہ تک نظربند رکھاگیا۔

Image caption رینجرز کو کراچی میں ماورائے عدالت قتل کے الزامات کا سامنا رہا ہے

آئین کی رو سے صوبے کی سول انتظامیہ رینجرز کو اندرونی سلامتی کے فرائض دینے طلب کرسکتا ہے لیکن اس کے آدھے اخراجات وفاق ادا کرے گا۔ سندھ کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ سنہ 1992 سے رینجرزکا ہاتھی سندھ پال رہا ہے۔

رینجرز کراچی سمیت سندھ میں جا بجا اپنی چوکيوں پر جس طرح شہریوں کی تذلیل کرتے نظر آتی ہے ایسی تذلیل غزہ کی پٹی پر بھی نہیں ہوتی ہوگی۔

سنہ 1990 میں رینجرز سندھ میں امن و امان کی ڈیوٹی دینے آئی تو جامشورو ریلوے پھاٹک پر مشہور سندھی لوک فنکار گلشیر تیونو کو گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران کئي گھنٹوں جون کی دوپہر کھڑا کر دیا جس سےوہ کچھ دنوں بعد انتقال کر گیا۔

ایک بھیانک کیس رینجرزکے ہاتھوں مارچ سنہ 1996 میں روہڑی کے قریب جاگیرانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے چھ دودھ فروش دیہاتیوں کے ماورائے عدالت قتل کا بھی ہے جب روہڑی شہر سے دودھ فروخت کر کے اپنے گاؤں لوٹنے والے ان دودھ فروشوں کو ڈاکو قرار دے کر قتل کیا گیا تھا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس واقعہ کی تفتیش کرنے کے لیے اپنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بھیجی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں جاگیرانی دودھ فروشوں کے قتل کو جعلی مقابلہ اور ماورائے عدالت قتل قرار دیا تھا تاہم رینجرز کے ترجمان نے اس کی تردید کی تھی۔

سنہ 1993 سے 1996 تک چاہے بینظیر بھٹو کی حکومت یا سنہ 1992 سے 1993 اور پھر 1997 سے 1999 تک نواز شریف کی حکومت تلے کراچی سمیت سندھ میں انسانی خلاف ورزیوں اور سینکڑوں ماورائے عدالت قتل کے سال تھے جن کے متعلق دستاویزات اب ملکی اور عالمی انسانی حقوق کی آرکائیوز کا حصہ ہیں۔

ٹنڈو بہاول، شاہ بندر، یوسف جکھرانی، گمبٹ کے حیدر شاہ اور کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں اور مرتضی بھٹو سمیت کئی ماورائےعدالت قتل ان ادوار میں فوج، رینجرز اور پولیس کے ہاتھوں ہوئے۔ بلوچوں سے تو چاہے ‌زبانی جمع خرچ سہی لیکن صدر زرداری نے معافی مانگ لی لیکن کراچی سمیت سندھ کے عوام سے ان کے دور میں آپریشنز کے دوران سنگین خلاف ورزیوں پر نواز شریف نے کبھی معافی نہیں مانگی۔

سندھ کا مسئلہ بمشول امن و امان سے زیادہ سیاسی اور انسانی حقوق کا ہے۔ اسے اگر سندھ میں پی پی پی اور ایم کیو ایم کے پاور بیس کو ہدف بنانا ہی ٹارگیٹیڈ آپریشن کی منزل مقصود ہے تو پھر اس کے نتائج بلوچستان سے مختلف نہیں نکلیں گے۔ رینجر کراچي اور سندھ میں وہی کرے گی جو ایف سی بلوچستان میں کر رہی ہے۔ جسے ایم آر ڈی کے دنوں میں سندھ میں تعینات کرنے پر سندھ کے لوگوں نے بہری پولیس کا نام دیا تھا۔

اسی بارے میں