مُلا سنگین ڈرون حملے میں ہلاک

Image caption ملا سنگین تحریکِ طالبان کے سابق کمانڈر بیت اللہ محسود کے ساتھ

پاکستانی حکام کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں حقانی نیٹ ورک کے اہم کمانڈر ملا سنگین ذدران ہلاک ہو گئے ہیں۔

متعدد مقامی ذرائع اور حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاک افغان سرحد کے قریب واقع درگو منڈی میں ہونے والے حملے میں مولا سنگین اپنے پانچ ساتھیوں سمیت مارے گئے ہیں۔ مرنے والوں میں چار غیر ملکی بھی بتائے جاتے ہیں۔ تاہم حقانی نیٹ ورک نے ابھی تک ملا سنگین کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اقوام متحدہ نے حقانی نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کر دیں

ملا سنگین دہشت گردوں کی فہرست میں شامل

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس ڈرون حملے میں ملا سنگین کی ہلاکت کی اطلاعات نہیں ہیں اور ڈرون حملے پر اپنا ردعمل پہلے ہی دے چکے ہیں۔

دفتر خارجہ نے ڈرون حملے پر اپنے ردعمل پر کہا ہے کہ’امریکی ڈرون حملوں نے دو ملکوں کے درمیان تعلقات کی خطرناک مثالیں قائم کر دی ہیں اور حملوں سے خطے میں امن و استحکام کو بھی نقصان پہنچے گا‘۔

شمالی وزیر ستان کے صدر مقام میرانشاہ میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آج جمعہ کی نماز سے پہلے مسجدوں سے اعلانات کئے گئے جس میں کہا گیا کہ مولا سنگین امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں ۔

بنوں کے ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ انکی ایسے افراد سے بات ہوئی جنہوں نے کمانڈر سنگین کے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ نماز جنازہ میرانشاہ میں ہی کسی مقام پر ادا کی گئی جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ملا سنگین پر افغانستان میں اغوا اور جنگجو بھجوانے کے الزامات لگایا جاتا ہے۔

ملا سنگین ذدران کو اقوام متحدہ نے دہشت قرار دے کر بلیک لسٹ کیا تھا۔

ملا سنگین حقانی نیٹ ورک کے سربراہ کے رشتہ دار بھی تھے اور اس حملے میں ان کے ساتھ چار مزید افراد بھی ہلاک ہوئے۔

حقانی نیٹ ورک مشرقی افغانستان اور اس سے ملحقہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغان طالبان اور القاعدہ کا اتحادی ہے۔

امریکی انتظامیہ نے اگست 2011 میں حقانی گروپ کے کمانڈر ملا سنگین ذدران کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

ملا سنگین ذدران افغانستان میں سرگرم طالبان حقانی گروپ کے اہم کمانڈر ہیں اور افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے کمانڈر بھی رہے ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے بیان میں کہا ہے کہ ملا سنگین افغانستان میں موجود اتحادی فوجوں پر حملوں میں ملوث ہیں اور انہوں نے سینکڑوں غیر ملکی جنگجوؤں کی افغاسنتان پہنچنے میں مدد کی ہے۔

امریکہ نے ملا سنگین کے علاوہ چار مزید افراد کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے ہیں۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ پہلے ہی ملا سنگین کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کا مطلب ہے کہ ملا سنگین کسی بھی ملک سفر نہیں کرسکتے، ان کے اثاثے منجمد ہو گئے ہیں اور ان کو اسلحے کی فروخت پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔

امریکہ ماضی میں پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی حمایت اور اس کی قیادت کے لیے اپنے زیرِ انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرِستان میں محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے تاہم پاکستان شدت پسندوں کو اپنی سر زمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزام کی تردید کرتا ہے۔

اس سے قبل چھ نومبر 2012 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حقانی نیٹ ورک پر عالمی پابندیاں عائد کردی تھیں۔

سلامتی کونسل کی کمیٹی برائے افغانستان / طالبان پابندیوں نے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ تنظیم کے خودکش کارروائیوں کے نگراں قاری ذاکر پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں۔

پاکستانی طالبان سے بات چیت کرنے کی حمایتی اور حکومت کو مذاکرات میں تعاون کی پیشکش کرنے والی جماعت جمعیت علماءاسلام ف کے ترجمان جان اچکزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ’اس سے پہلے جب طالبان سے بات چیت شروع ہونے کے شواہد سامنے آ رہے تھے تو اس وقت کالعدم تحریک طالبان کے نائب امیر مولوی ولی الرحمان کی ہلاکت سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا تھا اور اس وقت ڈرون حملے ایک بار پھر بات چیت کو ناکام کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے‘۔