آل پارٹیز کانفرنس تنازعات کی زد میں

Image caption ’کُل جماعتی کانفرنس میں صرف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو مدعو کیاگیا ہے‘۔ پرویز رشید

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس پیر کو وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہو گی جس کے لیے پارلیمان میں بڑی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

اس بات کا اعلان وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ یہ کانفرنس پیر کو دن گیارہ بجے وزیراعظم ہاؤس میں شروع ہو گی جس کا آغاز وزیر اعظم کے خطاب سے ہو گا جس کے بعد آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل مندوبین کو بریف کریں گے۔

اس کے بعد چیف آف ارمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اظہارِ خیال کریں گے اور پھر شریک جماعتوں کو اظہارِ خیال کا موقع دیا جائے گا۔

تاہم وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس انعقاد سے پہلے ہی تنازعات کی زد میں آ گئی ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات پرویز رشید نے کہا کہ پیر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی کُل جماعتی کانفرنس میں صرف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو مدعو کیاگیا ہے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کی شکایت بلاجواز ہے کیونکہ پارٹی کے پارلیمانی رہنما سید خورشید کو کانفرنس میں مدعو کیاگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شیخ رشید اور اعجازالحق کو بھی کانفرنس میں مدعو نہیں کیاگیا ہے کیونکہ انہوں نے صرف ایک ، ایک نشست حاصل کی ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیخ رشید جن کی جماعت کی صرف ایک نشست ہے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ پِک اینڈ چوز پر اے پی سی نہیں ہوتی ہر پارٹی کی ایک رائے ہے ہر پارٹی کا ایک مقام ہے۔‘

شیخ رشید نے مزید کہا کہ ’اے پی سی کا مطلب تو یہی ہوتا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس اور پچھلی دو اے پی سیز میں ہم شامل ہوئے تھے۔ اور ان میں سبھی جماعتیں موجود تھیں چھوٹی بڑی جو میٹر کرتی ہیں۔ جہاں تک پارلیمانی لیڈرز کی بات ہے تو سوائے پاکستان تحریکِ انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ نواز کے باقی سب جماعتوں کی ایک ایک نشست ہے۔ شیرپاؤ کی بھی ایک نشست ہے، میری بھی ایک نشست ہے، عوامی نیشنل پارٹی کی بھی ایک نشست ہے اور محمود خان اچکزئی کی بھی ایک نشست ہے۔‘

شیخ رشید نے اس کانفرنس کے انعقاد پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ٹوپی ڈرامہ کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ خوفزدہ ہیں۔ اگر پارلیمانی لیڈرز کی بھی بات ہے تو میں پارلیمنٹ میں اپنی جماعت کی سربراہی کر رہا ہوں۔ یہ صرف ایسے لوگوں کو بلانا چاہتے ہیں جو یا تو پہلے ہی ان کے ساتھ ہیں یا یہ عمران خان کو ٹریپ کرنا چاہتے ہیں اس کانفرنس میں اس سے زیادہ کوئی مقصد دکھائی نہیں دیتا۔‘

اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز نے مخدوم امین فہیم کو کانفرنس میں دعوت نہ دینے پر اعتراض کیا تھا جو جماعت کے رہنما ہیں۔

حکومت نے دعوت نامہ سید خورشید شاہ کو بھجوایا جو پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے قومی اسمبلی میں قائد ایوان ہیں۔ مگر دوسری جانب حکومت نے عوامی نیشنل کے رہنما اسفندیار ولی کو دعوت نامہ بھی بھجوا دیا جو پارلیمان کے رکن تو نہیں مگر اپنی جماعت کے سربراہ ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر نے کہا کہ ’دعوت تو عوامی نیشنل پارٹی کو دی گئی اور کال اسفندیارولی خان کو کیا لیکن انہوں نے معذرت اس لیے کی کہ جماعت کی تمام تنظیمیں چونکہ تحلیل ہو چکی ہیں اس لیے جو اس وقت پارٹی کے چیئر ہیں حاجی عدیل یہ دعوت نامہ ان کو جانا چاہیے تو اس لیے ان کو دعوت دی گئی ہے۔‘

اس آل پارٹیز کانفرنس کے ایجنڈے کے بارے میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا کہ حکومت تمام فریقوں کے ساتھ اتفاقِ رائے کے بعد ملک میں قیامِ امن کے حوالے سےایک قومی پالیسی تشکیل دینا چاہتی ہے۔

پرویز رشید نے کہا کہ اس کانفرنس میں دفاعی اداروں، میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ ایک متفقہ موقف کے ساتھ اس پالیسی کی تشکیل میں مدد دے سکیں۔

وزیرِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان گیارہ ستمبر کے واقعات سے بہت متاثر ہوا تھا اور یہ کانفرنس اسی دن منعقد کی جا رہی ہے جو ملک کی تاریخ میں یاد رکھی جائے گی۔