زرداری اور زرداری کے بعد

Image caption آصف زرداری پہلے صدر ہیں جنہوں نے اپنا اختیار کسی جرنیل یا پچھلے دروازے سے در آنے والے سویلین کے حوالے نہیں کیا

آصف علی زرداری کے بارے میں میرا جتنا بھی علم ہے وہ ان سے گاہے بگاہے ملنے والوں چند دوستوں یا پھر میڈیائی زہریلوں کی فراہم کردہ منتخب معلومات کے طفیل ہے۔ اور اس بنیاد پر جو تصویر بنتی ہے وہ بلیک اینڈ وائٹ نہیں بلکہ گرے ہے۔ اور گرے تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ سیاہ اور سفید کو گھول کے بنتا ہے۔ چونکہ ہم سب ہی گرے ہیں لہذا آصف زرداری بھی ہم جیسے ہی ہیں۔اور اگر ان کو بے نظیر بھٹو، پیپلز پارٹی اور عہدہِ صدارت سے الگ کر کے دیکھا جائے تو نرے عام سے آدمی نکلیں گے۔

آپ انہیں جدی پشتی وڈیروں کے خانے میں بھی بوجوہ نہیں رکھ سکتے۔ آپ انہیں کوئی بہت زیادہ پڑھا لکھا یا کوئی کتابی کیڑا یا کتاب کے حساب سے چلنے والا بھی تصور نہیں کر سکتے۔ وہ کوئی کرشمہ ساز مقرر یا لسانی کرتب باز بھی نہیں۔ ان کا عالمی و آفاقی ویژن بھی سطحی سا ہے ۔ البتہ سیاست کی اتفاقی و حادثاتی تعلیم ضرور ہے، لہذا نسلی باتصویر سیاستداں کے خانے میں بھی فٹ دکھائی نہیں دیتے۔ البتہ جاری نظام کی کمزوری و طاقت سیاست کاروں کی موجودہ نسل میں شاید ہی کوئی ان سے بہتر سمجھتا ہو۔ سیاست میں نا ہوتے تو شاید شطرنجی گیری کیسپروف ہوتے۔

آصف زرداری کی سوچ بھی اکثر دیہی و شہری خمیرے سے تیار شدہ اس روائیتی مڈل کلاسیئے جیسی لگتی ہے جو اپنے مالی و سماجی حال سے کبھی مطمئن نہیں ہوتا اور لاشعوری احساسِ عدم تحفظ کا اسیر ہونے کے سبب خوب سے خوب تر کے حصول میں زندگی بھر ذہنی و جسمانی توانائیاں صرف کرتا رہتا اور تنی ہوئی حیات کے رسی پر جھولتا رہتا ہے۔ کچھ لوگ چاہیں تو آصف زرداری کو قسمت کا دھنی بھی کہہ سکتے ہیں۔

آپ کچھ بھی کہہ لیں لیکن اس کا کیا کریں کہ محمد علی جناح سے آج تک جتنے بھی سویلین سربراہانِ مملکت آئے ان میں فضل الہی چوہدری کے بعد آصف زرداری دوسرے منتخب صدر ہیں جنہوں نے طے شدہ آئینی مدت پوری کی۔ ( بلکہ صدر فضل الہی چوہدری تو اپنی آئینی مدت چودہ اگست انیس سو تہتر تا تیرہ اگست انیس سو اٹھہتر سے بھی ایک ماہ دو دن اوپر یعنی سولہ ستمبر انیس سو اٹھہتر تک صدر رہے)۔

البتہ اس اعتبار سے آصف زرداری پہلے صدر ہیں جنہوں نے اپنا اختیار کسی جرنیل یا پچھلے دروازے سے در آنے والے سویلین کے حوالے نہیں کیا بلکہ ایک اور منتخب سویلین صدر کو سونپ کے دن کی روشنی میں رخصت ہو رہے ہیں۔

جتنی جیل آصف علی زرداری نے کاٹی اتنی قید کسی اور منتخب پاکستانی صدر یا وزیرِ اعظم نے اپنی سیاسی زندگی میں نہیں کاٹی۔

جتنے بھی فوجی یا سویلین، منتخب و غیر منتخب گورنر جنرل یا صدور آئے وہ اپنے اختیارات سے یا تو غیر مطمئن رہے یا پھر ان میں اضافے کی تگ و دو کرتے رہے۔ آصف زرداری نے جب عہدہِ صدارت سنبھالا تو یہ ایک با اختیار اور طاقتور منصب تھا ۔مگر پہلی دفعہ کسی با اختیار نے اپنی آئینی طاقت اپنی رضا سے بذریعہ پارلیمنٹ وزیرِ اعظم کے منصب کو منتقل کردی اور اپنے لیے محض علامتی اختیارات پر اکتفا کیا۔ بلکہ بہت سے وفاقی اختیارات بھی صوبوں کو منتقل کرنے کے آئینی عمل کی حوصلہ افزائی کی۔ اور اس تجربے کی قلم ایک ایسے سماج میں لگائی گئی ہے جہاں کوئی کسی کے لیے دو فٹ کیا دو انچ زمین بھی بمشکل خوشی خوشی چھوڑنے پر آمادہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پاکستان میں پہلی دفعہ ہوا کہ پانچ برس تک جس پارٹی کا صدر اور حکومت ہو وہی پارٹی انتخابات میں ایسے بری طرح شکست کھا جائے کہ محض ایک صوبے تک سمٹ کے رہ جائے اور اس شکست کا الزام کسی اور کے سر تھوپنے کے بجائے نتائج کو تسلیم کر کے آنے والوں کو آئینی کیلنڈر کے اعتبار سے بلا چوں چاں اختیارات بھی سونپ دے۔

Image caption پاکستان میں پہلی دفعہ ہوا کہ پانچ برس تک جس پارٹی کا صدر اور حکومت ہو وہی پارٹی انتخابات میں ایسے بری طرح شکست کھا جائے کہ محض ایک صوبے تک سمٹ کے رہ جائے

ان پانچ برسوں میں حزبِ اختلاف بھی مجموعی طور پر بچپنے سے لڑکپن میں داخل ہوتی نظر آئی۔ منفی و مثبت، بامقصد و لایعنی گفتگو کے باوجود کسی سرکردہ جماعت نے نظام کو پٹڑی سے اتارنے کی جان بوجھ کے کوشش نہیں کی۔اس کا ثمر سویلین سے سویلین کو انتقالِ اقتدار کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ اور اسی فضا کا ذیلی ثمر یہ بھی ہے کہ پہلی مرتبہ ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت کا جھرلو حرکت میں نہیں آیا اور جو بھی ہار جیت ہوئی وہ خالص سرکاری بدمعاشی کے بجائے ووٹ کی بنیاد پر ہوئی اور سب نے ضمنی نتائج کو عام انتخابات کے نتائج کے مقابلے میں زیادہ خوش دلی سے تسلیم کیا۔

کوہ ہمالہ سے بلند معاشی، سیاسی، قانونی و سماجی مسائل و سکینڈلز جتنے کل تھے آج بھی اتنے ہی ہیں۔ شاید آنے والوں دنوں میں اور بھی زیادہ ہوجائیں۔ لیکن بنیادی جمہوری ڈھانچے پر اندر یا باہر سے کوئی نئی کاری ضرب نہ لگی تو زخموں پر بھی کھرنڈ آنا شروع ہوجائےگا۔

ویسے بھی آج کی تاریخ میں خوش امیدی کے سوا راستہ کیا ہے ؟؟؟

اسی بارے میں