سوات: ہزاروں افراد ڈینگی کے مرض میں مبتلا

Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈینگی مچھر سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے کے اوقات میں کاٹتا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختو نخواہ کے ضلع سوات کے سرکاری ہسپتال میں ڈینگی بخار سے تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

سیدو شریف کے ضلعی ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر واصل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں اب تک تین ہزار سے زیادہ مریضوں کے ٹیسٹ ہوئے ہیں جن میں دو ہزار سے زیادہ مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ان کے مطابق ہسپتال میں داخل کیے جانے والے مریضوں کی تعداد چودہ سو چار ہوگئی ہے جن میں سے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ گیارہ سو سینتالیس مریضوں کو کامیاب علاج کے بعد گھروں کو رخصت کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک ہزار سے زیادہ مریض سوات کے دیگر نجی ہسپتالوں میں بھی زیر علاج ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق سوات کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں مریض گھروں میں بھی پڑے ہیں جو گلیوں اور محلوں میں قائم نجی کلینکس سے علاج کرارہے ہیں۔

محکمہ صحت کے مطابق سیدو شریف ہسپتال کے ڈینگی وارڈ میں اس وقت دو سو تینتیس متاثرہ افراد زیرِ علاج ہیں جن میں سولہ بچے اور تہتر خواتین شامل ہیں۔

سوات کے علاقوں مٹہ، خوازہ خیلا اور مینگورہ شہر میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد زیادہ بتائی جاتی ہے۔ سیدو شریف ہسپتال میں متاثرہ افراد کے لیے تین وارڈز پہلے سے ہی مختص کردیے گئے ہیں جبکہ ایک سو بستروں پر مشتمل نیا وارڈ اتوار کے دن سے کام شروع کر دے گا۔

ڈینگی کے حوالے سے صوبائی وزیر صحت شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ڈینگی وائرس افغانستان سے لائے جانے والے ٹائروں کے ذریعے منتقل ہوا ہے جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گھروں، محلوں اور گلیوں میں کھڑے پانی میں ڈینگی مچھر کی افزائش ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈینگی مچھر سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے کے اوقات میں کاٹتا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ چند دن پہلے ہونے والے شدید بارشوں کے باعث دریائے سوات اور برساتی نالوں میں طغیانی آئی تھی جس کے وجہ سے پانی کئی دنوں تک سڑکوں اور نالوں میں جمع رہا جس سے ڈینگی مچھروں کی افزائش ہوئی اور مرض کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

ہسپتال میں زیر علاج سیدو شریف کے رہائشی، ایک مریض سہیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے گھر کے تین افراد کو کئی دنوں سے بخار تھا اور جب ہسپتال میں ان کے ٹیسٹ کرائے گئے تو انہیں بتایا گیا کہ ان سب کو ڈینگی بخار ہے۔ ان کے مطابق ان کے محلے کے ہر گھر میں دو تین افراد ڈینگی بخار میں مبتلا ہیں جن کا علاج ان کے گھروں پر ہی ہو رہا ہے۔

سوات میں ڈینگی بخار کے کیسز میں اضافے کے بعد محکمۂ صحت اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مینگورہ شہر اور دیگر مختلف علاقوں میں مچھر مار سپرے بھی کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود مرض کی شدت میں اضافے کے باعث مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

اسی بارے میں