اے پی سی تجاویز

Image caption وزیرِاعظم مجوزہ اقدامات پر عمل کرنے کے لیے کسی بھی ٹائم فریم کے پابند نہیں ہیں

اسلام آباد میں منعقدہ کُل جماعتی کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جتنا مفصل ہے اتنا ہی ہلکا بھی ہے۔ اس میں اچھی میٹھی گاجریں تو بہت ہیں لیکن مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھانے پر کسی ڈنڈے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس بیان سے تاثر یہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ حکومت معاملات میں حاوی ہے اور وہ ایک مضبوط پوزیشن سے بات کر رہی ہے۔

اگر اور مگر کا اس اعلامیے میں جان بوجھ کر کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اگر طالبان سے بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو دوسری آپشن کیا ہوگی؟ طاقت کے استعمال کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔

آٹھ نکاتی فارمولے میں پاکستانی طالبان کا نام نہیں لیا گیا ہے، نہ ہی شدت پسند جیسی اصتلاح یا دہشت گرد جیسے سخت لفظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ ماضی کے اس قسم کے اجلاسوں سے اس میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ ہاں ماضی کا رونا ضرور ہے کہ اس قسم کی کُل جماعتی کانفرنسوں اور پارلیمانی قراردادوں پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ تاہم اس میں کسی کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹہھرایا گیا ہے یا اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

ایک بڑی بات اس میں کسی مدت کا تعین نہیں کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف ثالثوں کا انتخاب کر کے کب تک مذاکراتی عمل کو شروع کرنے کے پابند ہیں۔ یہ کل بھی ہوسکتا ہے اور آئندہ سال بھی۔ شاید جان بوجھ کر کوئی مدت نہیں رکھی گئی تاکہ مسلم لیگ (نون) کی حکومت تسلی سے بات چیت کی تیاری اور آغاز کرے۔ یا اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کسی معاہدے تک پہنچنے تک حکومت اس کا کوئی اعلان نہ کرے۔ اخبارات میں آنے سے شہہ سرخیاں تو بن جائیں لیکن بات چیت آگے نہ بڑھ پائے۔ شاید اسی لیے حکومت کی رضا پر اسے چھوڑ دیا گیا ہے۔

اس مرتبہ بات صرف شدت پسندوں تک محدود نہیں تھی اور کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی اور بلوچستان میں ناراض بلوچوں سے مذاکرات شروع کرنے کی بات بھی کی گئی اور اسے فیصلے کا حصہ بنایا گیا۔ شاید طالبان سے تو مذاکرات کے لیے فضاء سازگار دکھائی دے رہی ہے لیکن بلوچستان کی حد تک حالات کچھ زیادہ امید افزا نہیں ہیں۔

اعلامیہ کی ایک اہم بات جو ابتداء میں ہی ہے، وہ فوجی حکام کی بریفنگ کے تناظر میں اس بات کا اعتراف ہے کہ حالات گزشتہ کئی برسوں میں خراب ہوئے ہیں، ان میں بہتری نہیں آئی۔ یہ بات موجودہ حکومت سے زیادہ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت سے جڑی ہے کہ اس کے دور کے آخری چند برسوں میں حالات میں ابتری آئی ہے۔ اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے نمائندے اور حزب اختلاف کے رہنما سید خورشید شاہ اور مخدوم امین فہیم ضرور تھے اور انہوں نے اس کو کیسے تسلیم کر لیا ہوگا؟

اسی بارے میں