کوئی ایکشن نہیں، طالبان سے بات ہوگی

Image caption یہ کل جماعتی کانفرنس بارہ جولائی کو منعقد کروائی جانی تھی لیکن اسے بعد ازاں موخر کر دیا گیا

اسلام آباد میں منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیہ میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کی راہ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والی اس کانفرنس میں ملک کی سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ فوجی قیادت نے بھی شرکت کی اور ملک کو درپیش اندورنی اور بیرونی خطرات پر فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی نے بھی بریفنگ دی۔

کانفرنس میں منظوری کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا کہ امن کو موقع دینے کے رہنما اصول پر قبائلی علاقوں میں اپنے لوگوں سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔

کل جماعتی کانفرنس پر بلوچ رد عمل

دوسری جانب کُل جماعتی کانفرنس کی قرارداد پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا ہے کہ پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ فوج اور حکومت ’ایک پیج‘ پر ہیں۔

طالبان کے ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار احمد ولی مجیب سے بات کرتے ہوئے کہا تنظیم اے پی سی کی قرارداد کا خیر مقدم کرتی ہے اور اس پر تفصیلی فیصلہ ایک دو روز میں طالبان شوریٰ جاری کرے گی۔’اس قرارداد میں جنگ کی بات نہیں کی گئی ہے جبکہ ماضی میں حکومت کا مذاکرات کے حوالے سے موقف غیر واضح رہا ہے۔‘

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ امن مذاکرات کے دوران مقامی روایات، ثقافت اور طور طریقوں کے علاوہ مذہبی عقائد کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے اور ایسا ساز گار ماحول بنایا جائے جس سے ان علاقوں میں امن اور سکون بحال ہو سکے۔

اعلامیے میں بغیر کوئی معینہ تعداد دیے کہا گیا کہ جنگ، غیر قانونی ڈرون حملوں اور ان کے ردعمل میں اب تک ہزاروں معصوم شہریوں اور فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں ہلاک ہو گئے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے طریقہ کار اور وسائل کا فیصلہ خود کرے گی اور امریکہ سمیت کسی بھی ملک سے اس ضمن میں ڈکٹیشن نہیں لی جائے گی۔

قرار داد میں ملک میں گزشتہ دس سال سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ سے زیادہ ڈرون حملوں کو حرف تنقید بنایا گیا۔

قرار داد میں ستمبر 2011 میں ہونے والی کُل جماعت کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اس کانفرنس میں بھی ’امن کو موقع دیا جانے‘ کا کہا گیا تھا اور اب بھی یہ مرکزی اصول ہونا چاہیے۔ اور ملک کے قبائلی علاقوں میں اپنے لوگوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔‘

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ ’خیبر پختونخوا کی حکومت اور تمام فریقوں کو مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔‘

ڈرون حملوں کے حوالے سے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ منتخب حکومت نے ملک کے قبائلی علاقوں پر مسلسل امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

’ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ڈرون حملے نہ صرف ملکی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کوششوں کے لیے نقصان دہ بھی ہیں۔‘

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’وفاقی حکومت کو ڈرون حملوں کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ حکومتِ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے طریقہ کار اور وسائل کا فیصلہ خود کرے گی اور امریکہ سمیت کسی بھی ملک سے اس ضمن میں ڈکٹیشن نہیں لی جائے گی۔‘

کُل جماعتی کانفرنس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے پر صوبائی حکومت کو اختیار کر دیا گیا ہے کہ وہ صوبے میں اندرون اور بیرون ملک تمام ناراض عناصر سے بات چیت کا عمل شروع کرے تاکہ ان کو قومی دھارے میں لایا جا سکے۔

قرار داد میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لوگوں کی زندگی، املاک اور کاروبار کو درپیش مسلسل خطرے پر تشویشن کا اظہار کیا گیا اور شہر میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے سلسلے میں فریقین کو اعتماد میں لینے سمیت وفاقی حکومت کے حالیہ اقدامات اور اس ضمن میں صوبائی حکومت کی مکمل حمایت کرنے کو سراہا گیا۔

قرارداد میں کراچی کے رہائشیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ شہر سے منسوب رونق بحال کرنے کے لیے لگن اور مکمل جانبداری سے کوشش کریں۔

قرارداد کے مطابق حالیہ پیش رفت سے ان تجاویز کی افادیت اور ضرورت مکمل طور پر واضح ہوگئی ہے چنانچہ اس سلسلے میں وزیرِاعظم کی تمام کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ وفاقی حکومت کو کہتے ہیں کہ فریقین سے مذاکرات کرے اور اس سلسلے میں موزوں طریقہ کار کی تیاری اور مذاکرات کاروں کی نشاندہی سمیت وفاقی حکومت جو بھی اقدامات بہتر سمجھے وہ کرے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کہنا غیر ضروری ہوگا کہ اس عمل کو جتنا بھی ممکن ہو، مشاورتی ہونا چاہیے اور اس میں خیبر پختونخوا کی حکومت اور دیگر فریقین کی شرکت بھی ہونا چاہیے۔ اس عمل کے رہنما اصول مقامی روایات اور مذہبی عقائد کے احترام اور ایسا ماحول پیدا کرنا ہونا چاہیے جن سے خطے میں امن اور استحکام پیدا ہو۔

Image caption کانفرس میں کراچی میں امن و امان کی خراب صورتحال معمول پر لانے کی بات کی گئی

قرارداد میں افغانستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ہم وفاقی حکومت سے استدعا کرتے ہیں کہ افغانستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ مسلسل روابط کے ذریعے افغانستان میں امن لانے کی تمام تر کوششیں کریں۔

قرار داد میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لوگوں کی زندگی، املاک اور کاروبار کو درپیش مسلسل خطرے پر تشویشن کا اظہار کیا گیا اور شہر میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے سلسلے میں فریقین کو اعتماد میں لینے سمیت وفاقی حکومت کے حالیہ اقدامات اور اس ضمن میں صوبائی حکومت کی مکمل حمایت کرنے کو سراہا گیا۔

قرارداد میں کراچی کے رہائشیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ شہر سے منسوب رونق بحال کرنے کے لیے لگن اور مکمل جانبداری سے کوشش کریں۔

قرارداد میں افغانستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ہم وفاقی حکومت سے استدعا کرتے ہیں کہ افغانستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ مسلسل روابط کے ذریعے افغانستان میں امن لانے کی تمام تر کوششیں کریں۔

قرارداد کے مطابق حالیہ پیش رفت سے ان تجاویز کی افادیت اور ضرورت مکمل طور پر واضح ہوگئی ہے چنانچہ اس سلسلے میں وزیرِاعظم کی تمام کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور وفاقی حکومت کو کہتے ہیں کہ فریقین سے مذاکرات کرے اور اس سلسلے میں موزوں طریقہ کار کی تیاری اور مذاکرات کاروں کی نشاندہی سمیت وفاقی حکومت جو بھی اقدامات بہتر سمجھے وہ کرے۔

Image caption قرارداد میں وفاقی حکومت سے استدعا کی گئی ہے کہ افغانستان میں امن لانے کے لیے تمام کوششیں کی جائیں

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کہنا غیر ضروری ہوگا کہ اس عمل کو جتنا بھی ممکن ہو، مشاورتی ہونا چاہیے اور اس میں خیبر پختونخوا کی حکومت اور دیگر فریقین کی شرکت بھی ہونا چاہیے۔ اس عمل کے رہنما اصول مقامی روایات اور مذہبی عقائد کے احترام اور ایسا ماحول پیدا کرنا ہونا چاہیے جن سے خطے میں امن اور استحکام پیدا ہو۔

اس سے قبل ملک کو درپیش دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مسئلے پر جسے حکومتی سطح پر بعض اوقات جنگ کا نام بھی دیا جاتا ہے کُل جماعتی کانفرنس میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی نے بریفنگ دی۔

اس کل جماعتی کانفرنس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین شامل ہوئے جن میں پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم اور خورشید شاہ، پی ٹی آئی کے عمران خان، جماعتِ اسلامی کے لیاقت بلوچ اور میاں اسلم، پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، اے این پی کے حاجی عدیل، جمعیت علمائے پاکستان ف کے مولانا فضل الرحمان، ایم کیو ایم کے فاروق ستار، بی این پی کے اختر مینگل، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے پیرپگاڑا اور دیگر ارکان شامل تھے۔

اسی بارے میں