فی سبیل اللہ معافی کو رواج نہ بنایا جائے: چیف جسٹس

Image caption جس صلح کے نتیجے میں فساد پھیلنے کا خطرہ ہو تو اسے نہیں ہونا چاہیے: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ حالات اور واقعات دیکھے بغیر قتل کے مقدموں میں فی سبیل اللہ معافی دینا خلاف قانون اور دھوکہ ہے۔

چیف جسٹس نے یہ ریمارکس جمعہ کو صوبہ پنجاب کے علاقے منڈی بہاؤالدین میں بچوں کے قتل پر اُن کے ورثاء کی جانب سے ملزمان کو معاف کرنے کے مقدمے کی سماعت کے دوران دیے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فی سبیل اللہ معافی کو رواج نہ بنایا جائے کیونکہ اس معاملے میں قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزار ملک کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات کو دیکھیں کہ قصاص اور دیت اور اسلامی قوانین پر صیح عملدرآمد ہو رہا ہے یا نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت محض فریقین کے درمیان سمجھوتوں کو نہ دیکھیں بلکہ اس ضمن میں ملکی اور اسلامی قوانین کو بھی سامنے رکھیں۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ قرآنی آیات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیاجارہا ہے اور آئین کے مطابق ایسا کرنے سے یہ اقدام فسخ ہوجاتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پنجاب کے شہر فیصل آباد سے بھی ایک ایسا مقدمہ سامنے آیا ہے جس میں مقتول کے ورثاء کو ڈرا دھمکا کر اُنہیں صلح پر مجبور کیا جارہا اور اُن پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ مجرمان کو فی سبیل اللہ معاف کر دیں۔

اُنہوں نے کہا کہ قتل کے مقدمے کے فریقین کے درمیان صلح کا دائرہ کار اور طریقۂ کار وضح ہونا چاہیے اور جس صلح کے نتیجے میں فساد پھیلنے کا خطرہ ہو تو اسے نہیں ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ ایسے معاملات میں فساد کو روکے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں کراچی میں شاہ زیب خان نامی نوجوان کے قتل کے مقدمے میں بھی ورثاء کی جانب سے بااثر مجرموں کو فی سبیل اللہ معاف کرنے کے معاملے پر بھی سوشل میڈیا پر اور سول سوسائٹی کی جانب سے خاصی تنقید ہوئی ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز اور پراسیکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری کیے ہیں کہ وہ بتائیں کہ قتل کے مقدمے میں اگر فریقین کے درمیان صلح ہونے پر فساد ہونے کا خطرہ ہو تو اس بارے میں کیا کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے اُنہیں 23 ستمبر کو مشترکہ جامع دلائل پیش کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ سپریم کورٹ کے سنیئر وکیل شاہد حامد کو اس ضمن میں عدالتی معاون مقرر کیا ہے۔

جمعہ کو سماعت کے دوران شاہد حامد کا کہنا تھا کہ حکومت نے یورپی یونین کے دباؤ میں آکر سزائے موت پر عملدرآمد کو معطل کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سابق صدر نے بھی سزائے موت کے عمل درآمد پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔

اسی بارے میں