اسلام آباد: بھتہ خوری کے ملزمان جسمانی ریمانڈ پر

Image caption اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے پولیس اہلکار گُذشتہ پانچ سال سے متعلقہ تھانے میں تعینات تھے

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار ہونے والے سات ملزمان کو پانچ روزہ جمسانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد میں افغانی باشندے شامل ہیں جو اسلام آباد کی فروٹ اور سبزی منڈی سے بھتہ وصول کرتے تھے۔ عدالت نے ملزمان کو اٹھارہ ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس سے پہلے ان ملزمان کو ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر دیا گیا تھا۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ سکندر حیات نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بیان دیا تھا کہ صرف سبزی منڈی سے ماہانہ پچاس لاکھ کے قریب بھتہ اکھٹا کیا جاتا ہے۔ اس مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی تفتیش کی جائے گی کہ وہ اتنا عرصہ غیر قانونی طور پر کس طرح پاکستان میں رہے ہیں۔

پاکستان میں اغوا ایک پھلتی پھولتی’صنعت‘

کراچی میں’فلیشن کڈنیپنگ‘ میں اضافہ

مغویوں کا’چپ‘ کا روزہ

دوسری جانب بھتہ خوروں کی مبینہ طور پر پشت پناہی کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے اسلام آباد پولیس اور وفاقی دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کے پانچ ارکان سے بھی تفتیش جاری ہے۔

ان افراد کی گرفتاری وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حکم پر آئی ہے جنہوں نے بھتہ خوروں کی پُشت پناہی کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

ان سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا تاہم اُنہیں متعلقہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ اُن کے خلاف ابھی انکوائری ہو رہی ہے اس لیے یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے پولیس اہلکار گُذشتہ پانچ سال سے متعلقہ تھانے میں تعینات تھے اور وہ مبینہ طور پر بھتہ خوروں سے پیسے لے کر اُن کی پُشت پناہی کرتے تھے۔

اسلام آباد پولیس کے شعبہ پراسکیوشن کے ایک اہلکار کے مطابق اس سال میں اب تک بھتہ خوری کے تین مقدمات درج کیے گیے ہیں جبکہ اس سے پہلے وفاقی دارالحکومت میں بھتہ خوری کا ایک مقدمہ بھی درج نہیں ہوا۔

اسی بارے میں