شہری کی ہلاکت، اہلکار پر قتل کا مقدمہ

Image caption وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے اس واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک شہری کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے والے فرنٹیئر کور کے اہلکار کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ہلاکت کا یہ واقعہ جمعہ کی شب مشن روڈ اور علمدار روڈ کارنر پر پیش آیا تھا۔

ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت سلیم مصطفیٰ مغل کے نام سے ہوئی تھی جوکہ گاڑیاں دھو کر اپنے خاندان کی گزر بسر کرتا تھا۔ان کا تعلق بہاولپور سے بتایا جاتا ہے اور وہ چند سال قبل روزگار کی تلاش میں کوئٹہ آئے تھے۔

فرنٹیئر کور کے اہلکار نے یہ الزام لگایا تھا کہ ناکے پر معمول کی چیکنگ کر رہے تھے کہ تلاشی دینے کی بجائے سلیم مغل نے ان سے بندوق چھیننے کی کوشش کی۔

تاہم مقتول کی اہلیہ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے شوہر کو بلاجواز ہلاک کیا گیا۔

خیال رہے کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سلیم مصطفیٰ کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے اس واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔

مذکورہ اہلکار کے خلاف قائد آباد پولیس سٹیشن میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن تاحال ایف سی اہلکار کو پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا۔

فرنٹیئر کور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے اہلکار کو ڈیوٹی سے ہٹاکر اس کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

فائرنگ کے اس واقعے میں ایک شخص زخمی بھی ہوا تھا جس کا نام دین محمد بتایا گیا ہے اور وہ ایک سرکاری افسر ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کوئٹہ ہی میں مری آباد کے علاقے میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی فائرنگ سے دو خواتین زخمی ہوگئی تھیں۔

اسی بارے میں