سوات:ڈینگی سے پندرہ ہلاک، ہزاروں بیمار

Image caption محکمہ صحت کے مطابق سوات کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں مریض گھروں میں پڑے ہیں جو گلیوں اور محلوں میں قائم نجی کلینکس سے علاج کرارہے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختو نخوا کے ضلع سوات کے سرکاری ہسپتال میں ڈینگی بخار سے مزید دو مریض ہلاک ہوگئے جس سے اس وبا سے مر نے والے افراد کی تعداد پندرہ ہوگئی ہے جبکہ تین ہزار سے زیادہ مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔

ڈینگی کے مریضوں میں سے گیارہ افراد سرکاری ہسپتال میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ باقی چار افراد کی ہلاکت گھروں یا نجی ہسپتالوں میں ہوئی ہے۔

سوات کے مختلف علاقوں میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں ڈینگی کے مریض ہسپتالوں اورگھروں میں بھی زیر علاج ہیں۔

ضلعی ہسپتال سیدو شریف کے ترجمان ڈاکٹر واصل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں اب تک چار ہزار سے زائد مریضوں کے ٹیسٹ ہوئے ہیں جن میں چھتیس سو کے قریب مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ انکے مطابق ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد دو ہزار پانچ ہوگئی ہے۔

سوات: ہزاروں افراد ڈینگی کے مرض میں مبتلا

انھوں نے کہا کہ پندرہ سو چالیس مریضوں کو کامیاب علاج کے بعد گھروں کو رخصت کردیا گیا ہے تا ہم مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ڈی سی سوات فرخ عتیق نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈینگی کے اس وبا پر قابو پانے کے لیے کوششیں جاری ہے اور اس سلسلے میں آگہی مہم کو تیز کردیا گیا ہے جبکہ ٹائر شاپس پر پابندی بھی لگا دی گئی ہے اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے واکس بھی کیے جارہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پندرہ سو سے ذائد مریض سوات کے دیگر پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی زیر علاج ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق سوات کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں مریض گھروں میں پڑے ہیں جو گلیوں اور محلوں میں قائم نجی کلینکس سے علاج کرارہے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر سوات ڈاکٹر عبدالخالق نے بی بی سی کو بتایا کہ گھروں میں پڑے ہوئے ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کے اعداد وشمار لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے اکھٹے کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مچھر مار سپرے پندرہ دن پہلے بعض علاقوں میں کیا گیا تھا تاہم علاقہ بڑا ہونے کے باعث بعض علاقوں میں یہ سپرے نہیں کیا گیا۔

سیدو شریف ہسپتال میں متاثرہ افراد کے لیے تین وارڈز مختص کردیے گئے ہیں لیکن تعداد زیادہ ہونے کے باعث زیادہ تر مریض کمروں کے باہر زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔ ہسپتال میں ذیرِ علاج مریض شیراز نے بتایا کہ ہسپتال میں صفائی کا کوئی انتظام نہیں اور جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں جو تیمار داروں کو بھی بیمار کررہے ہیں۔

سیدو شریف کے رہائشی سعیدالرحمان نے بتایا کہ یہ بات حکومت کی سمجھ سے باہر ہے کہ وہ اس مرض کی روک تھام کس طرح کرے۔ ان کے مطابق ایلکشن سے پہلے جب پنجاب میں ڈینگی کی وبا پھیلی تھی تو عمران خان بار بار یہ کہتے کہ ڈینگی برادران ایک ڈینگی پر قابو نہیں پا سکتے لیکن اب تو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ان کی حکومت ہے تو اب وہ اس کے روک تھام میں ناکام کیوں ہیں۔

سوات میں لوگوں کی اکثریت اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے کہ اس مرض کی روک تھام کے حوالے سے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ خاموش کیوں ہے۔

بیشتر لوگوں نے بتایا کہ منتخب ممبران اسمبلی اور ضلعی انتظامیہ کے افسران عملی اقدامات کے بجائے صرف سیمنارز اور واک میں فوٹو سیشن پر اکتفا کررہے ہیں جو صرف سیاست چمکانے کے سوا کچھ نہیں۔

اسی بارے میں