چُپ ، بالکل چُپ ، ایک دم چُپ

اگر میں امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان سید منور حسن کی نگاہوں سے دیکھوں اور ان کے ذہن سے سوچوں تو پھر تو زندگی بہت سہل اور باایمان ہے۔ اگر منور صاحب کی بات کو نہ تسلیم کروں یا ان کے طرزِ استدلال کو چیلنج کروں تو پھر دائرہِ اسلام سے خارج ہوتا ہوں اور دائرہِ اسلام سے خارج ہونے کا مطلب یہ ہے کہ میں مرتد ٹھہروں اور مرتد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ واجب القتل اور مردود کہلاؤں۔

ظاہر ہے کہ میں اس طرح بلا ایمان نہیں مرنا چاہتا۔ لہذا ایک پاکستانی ٹی وی چینل کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں سید صاحب کی اس دلیل کو بلا چون و چرا تسلیم کرتا ہوں کہ تحفظ ِ نسواں کا نافذ قانون مادر پدر آزاد ، فحاشی ، عریانی اور بے حیائی پھیلانے کا قانون ہے اور اس کے نتیجے میں عورت کو کوئی ایسا حق نہیں ملا جو اسے پہلے سے نہ حاصل ہو۔

اگرچہ نیشنل ویمن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق تحفظ ِ نسواں کے قانون سے قبل زنا کے جرم میں جو لوگ جیلوں میں تھے ان میں سے 80 فیصد ایسی خواتین تھیں جن کے پاس جرم ثابت کرنے کے لیے ضیا دور کے نافذ کردہ حدود قوانین کے بموجب چار مطلوبہ گواہ نہیں تھے۔ لہذا تحفظِ نسواں کے بل میں پہلے سے نافذ شدہ قوانین پر عمل درآمد میں سقم دور کرنے اور زنا کو ثابت کرنے کے لیے واقعاتی اور فورنزک شہادتوں سے مدد لینے کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ لیکن نہ تو اسلامی نظریاتی کونسل اور نہ ہی منور حسن اس کے حق میں ہیں کہ چار گواہ نہ ہونے کی صورت میں ڈی این اے ٹیسٹ یا واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر کسی کو سزا دینے کا فیصلہ کیا جائے۔

جب پنجوں کے بل بیٹھے گھگیاتے میزبان نے جلالی سید صاحب سے یہ پوچھا کہ اگر زنا یا زنا بالجبر کے کسی شکار کے پاس جرم ثابت کرنے کے لیے چار متقی مرد گواہ نہیں تو پھر مداوا کیسے ہوگا ؟ منور صاحب نے فرمایا کہ پھر وہ چپ کرکے بیٹھ جائے تاکہ معاشرے میں مزید انتشار نہ پھیلے۔اور اس پر بحث کی گنجائش اس لیے نہیں کیونکہ یہ قرآن کا فیصلہ ہے۔اور اگر آپ کج بحثی کرتے چلے جائیں گے تو پھر آپ کو دوبارہ کلمہ پڑھنا پڑے گا ورنہ۔۔۔

منور صاحب کے طرزِ استدلال سے کسی اور کا دماغ منور ہوا نہ ہوا۔ میرے دماغ پر تنے مکڑی کے جالے اور طبیعت ضرور صاف ہوگئے۔

اب منور صاحب کی فکری رہنمائی میں مجھ جیسوں کے لیے اس نتیجے پر پہنچنا نہایت آسان ہے کہ لاہور کی ایک پانچ سالہ بچی پر جو کچھ بھی بیتی سو بیت گئی چونکہ وہ بالغ نہیں، چونکہ وہ عمر کے اس حصے میں ہے کہ اجنبی چہروں کو صحت کے ساتھ نہیں پہچان سکتی، چونکہ اس عمر کے بچوں کا منفی اور مثبت کا شعور نہایت واجبی ہوتا ہے لہذا محض اس بچی کے بیان پر کسی کو سزا نہیں ہوسکتی۔

اس پانچ سالہ بچی کے ساتھ اس کا تین سالہ کزن احمد یار بھی اغوا کے وقت گلی میں کھیل رہا تھا۔مگر خوف کے سناٹے میں رونا بھی بھول جانے والا احمد یار بھی کیا بتائے گا ؟ اور محض سی سی ٹی وی پر اس بچی کو ہسپتال کے احاطے میں نازک حالت میں پھینکنے والے مناظر یا واقعاتی شہادتوں یا فورنزک تجزیے کی بنیاد پر بھی کسی کو سزا نہیں ہوسکتی۔

جن ڈاکٹروں نے طبی تجزیوں کی بنیاد پر ریپ کی تصدیق کی ہے وہ چشم دید گواہوں کی جگہ نہیں لے سکتے۔ غوثیہ کالونی میں اس بچی کے محلے کے رہائشیوں کے بیانات قلمبند کر کے پولیس محض اپنا وقت برباد کر رہی ہے کیونکہ ان میں سے کوئی بھی چشم دید نہیں۔

نہ جانے اس قدر کمزور کیس کا چیف جسٹس آف پاکستان نے کیوں از خود نوٹس لے لیا ؟ جانےحکومتِ پنجاب کیوں اس مقدمے کے پیچھے دوڑی دوڑی پھر رہی ہے ؟ نہ جانے میڈیا کیوں اسے بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے ؟ حالانکہ خیر تو اسی میں ہے کہ منور حسن صاحب کی فکر پر کان دھرتے ہوئے خاموش رہا جائے تاکہ نہ صرف اس بچی کا مستقبل خطرے میں نہ پڑے بلکہ معاشرے میں یہ المیہ مشتہر ہونے سے بے راہ روی اور انتشار میں جو اضافہ ہونا ہے اس سے بھی بچا جاسکے۔

زیادہ سے زیادہ یہ کیا جاسکتا ہے کہ اس بچی کا کسی اچھی سی جگہ پر علاج کروایا جائے اور اس کے تعلیمی مستقبل کی ذمہ داری ریاست اٹھا لے۔اللہ اللہ خیر صلا۔۔۔۔

اگرچہ بات سیاق و سباق سے ہٹ جائے گی مگر جانے کیوں مجھے بار بار خیال آرہا ہے کہ اچھا ہی ہوا ابوالاعلی مودودی جیسا صاحبِ علم چونتیس برس پہلے رخصت ہوگیا۔ورنہ کون جانے ان کے یہ چونتیس برس کس قدر ازیت میں کٹتے ۔۔۔

ڈیوڈ اور نامی کسی پاگل کے بقول

یہ کرہِ ارض اب مزید ذہین لوگوں کا بوجھ نہیں سہار سکتی۔

اسے مسکراتے مسیحاؤں ، نرم خو داستان گوؤں اور ہر شکل و قبیل کے محبتیوں کی سخت ضرورت ہے۔

ایسے مہذب بہادروں کی ضرورت ہے جو اس کرے کو بس رہنے کے قابل بنا دیں ۔

اسی بارے میں