’دہشتگرد طاقت کے زور پر شرائط نہیں منوا سکتے‘

Image caption دہشتگردوں کو قیامِ امن کے لیے سیاسی عمل کا فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا: جنرل کیانی

پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ کسی کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ دہشتگردوں کی شرائط تسلیم کی جائیں گی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق انہوں نے یہ بات اپر دیر میں پاکستانی فوج کے میجر جنرل کی ہلاکت سمیت فاٹا میں شدت پسندوں کی حالیہ کارروائیوں کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہی۔

’حکومت کے اخلاص اور بااختیار ہونے پر شک ہے‘

کوئی ایکشن نہیں، طالبان سے بات ہوگی

سنیچر کی شب اور اتوار کو چار مختلف کارروائیوں میں شدت پسندوں نے دو افسران سمیت چھ فوجیوں کو ہلاک کیا تھا۔

پیر کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق جنرل اشفاق کیانی کا کہنا تھا کہ سیاسی عمل کے ذریعے قیامِ امن کی کوششوں کو ایک موقع دینا سمجھ میں آتا ہے لیکن کسی کو اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ ’دہشتگرد ہمیں اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج قوم کی امنگوں کے مطابق ہر قیمت پر دہشتگردی کے عفریت سے لڑنے کے لیے پرعزم ہے اور اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کی صلاحیت اور عزم موجود ہے۔

جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کو قیامِ امن کے لیے سیاسی عمل کا فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کی نو تاریخ کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے مسئلے پر بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس میں اس سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کی راہ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس کانفرنس میں ملک کی سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ فوجی قیادت نے بھی شرکت کی تھی اور اس میں منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ قبائلی علاقوں میں ’اپنے لوگوں‘ سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائے اور ملک سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔

اس پر اتوار کو کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستانی حکومت قیامِ امن کے لیے کسی قسم کے مذاکرات سے قبل اپنے بااختیار اور مخلص ہونے کا ثبوت دے۔

شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی اردو سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ’ہم حکومت کے اخلاص اور اختیار کو بھی شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، اس لیے اگر ہم سمجھیں کہ حکومت بااختیار بھی ہے اور پھر ہم ان کے ساتھ مذاکرات کریں تو یہ فائدہ مند ہوں گے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر حکومت قبائلی علاقوں میں تعینات فوجیوں کو واپس بلا لے اور ان کے ساتھیوں کو رہا کر دے تو طالبان کو مذاکرات کے لیے اس کے اختیار اور نیت پر یقین آ سکتا ہے۔

اسی بارے میں