’محاذ جنگ‘ پر ہلاک ہونے پہلے اعلیٰ افسر

Image caption میجر جنرل ثناء اللہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں تعینات پاکستانی فوج کے جنرل آفیسر کمانڈنگ تھے

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی شمالی سرحدوں اور قبائلی علاقوں میں بارہ سال سے لڑی والی جنگ میں پاکستانی فوج کے ویسے تو سینکڑوں افسر اور جوان ہلاک ہو چکے ہیں لیکن میجر جنرل ثنا اللہ پاکستانی فوج کے سینیئر ترین فوجی افسر ہیں جو ’محاذ جنگ‘ پر دشمن کی کارروائی کا نشانہ بنے ہیں۔

ان سے پہلے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن میں شامل میجر جنرل جاوید سلطان فروری سنہ دو ہزار آٹھ میں جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔

اپر دیر میں دھماکہ: میجر جنرل سمیت 3 ہلاک

تحریک طالبان نے اس ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کا دعویٰ تو کیا تھا تاہم فوجی ذرائع اسے ایک حادثہ ہی قرار دیتے ہیں۔

میجر جنرل عہدے کے ایک اور افسر بھی دہشت گردی کی کارروائی کا نشانہ بنے ہیں۔ میجر جنرل عمر بلال راولپنڈی کی پریڈ لین میں واقع اپنے گھر کے قریب مسجد میں نماز جمعہ کے دوران شدت پسندوں کا نشانہ بنے تھے۔

دسمبر دو ہزار نو میں پریڈ لین مسجد پر ہونے والے اس حملے میں چھ دیگر سینیئر فوجی افسر بھی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

Image caption لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ راولپنڈی میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوئے

ان برسوں کے دوران شدت پسندوں کا نشانہ بننے والے پاکستانی فوج کے سینیئر ترین فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ تھے جو راولپنڈی میں فوجی صدر دفتر جی ایچ کیو کے قریب اپنی گاڑی پر ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوئے۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج کے سرجن جنرل، ڈاکٹر مشتاق بیگ اس حملے کا ہدف نہیں تھے بلکہ حملہ آور کا نشانہ ایک اور سینیئر فوجی افسر تھے جو جنرل مشتاق کے ساتھ ہی پچیس فروری دو ہزار آٹھ کی دوپہر جی ایچ کیو میں ایک اہم اجلاس میں شرکت کے بعد نکلے تھے اور ان کی گاڑی جنرل بیگ سے کچھ ہی فاصلے پر تھی۔

یوں اگر جنرل رینک کے افسران کا حساب لگایا جائے جنہیں پاکستانی فوج میں’سینیئر‘ افسر قرار دیا جاتا ہے تو تین میجر جنرلز اور ایک لیفٹیننٹ جنرل دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ لیکن میجر جنرل ثنا اللہ واحد سینیئر افسر ہیں جو اگلے مورچوں میں، دشمن کی کارروائی کا شکار ہوئے۔

اسی بارے میں