چلاس کیس: 2 مشتبہ افراد گوجرانوالہ سے گرفتار

Image caption مقامی پولیس ان افراد کی حراست سے متعلق لاعلمی کا اظہار کر رہی ہے

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے ضلع چلاس میں پاکستانی فوج اور پولیس کے تین افسران کی ہلاکت کے معاملے میں گوجرانوالہ کے دینی مدرسے سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ دونوں افراد ان اکیس لوگوں میں شامل ہیں جنہیں خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے دو دینی مدارس پر چھاپوں کے دوران حراست میں لیا تھا۔

گرفتار ہونے والے افراد کے نام عطا الرحمن اور محمد اکرام بتائے گئے ہیں جبکہ حراست میں لیے جانے والے باقی طلباء کو رہا کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ چھ اگست کو چلاس کے علاقے دیامیر میں شدت پسندوں کے حملے میں لیفٹینٹ کرنل مصطفی جمال، ایس ایس پی محمد ہلال اور کیپٹن اشفاق ہلاک ہوگئے تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق خفیہ ادارے کے اہلکار نے بتایا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد کے اس واقعہ میں ملوث افراد کے ساتھ روابط رہے ہیں اور یہ ان افسران کے قتل کے منصوبہ ساز کے بارے میں بھی معلومات رکھتے ہیں۔

حراست میں لیے جانے والے افراد سے متعلق بتایا گیا ہے کہ ان کا تعلق بھی گلگت بلتستان سے ہے۔

خفیہ ادارے کے اہلکار اس معاملے میں پہلے سے زیرِ حراست ملزم دلبر خان کو بھی ساتھ لیکر آئے تھے جسں نے ان افراد کی نشاندہی کی تھی۔

ادھر دینی مدارس مظاہرالعلوم اور انوار العلوم کی انتظامیہ کے رکن محمد تبریز کے مطابق خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان مدارس کے بیس کے قریب طلباء کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا جس کے بعد انھیں رہا کردیا گیا ہے۔

مدارس کی انتظامیہ کے مطابق ان کے کسی بھی طالب علم کو گرفتار نہیں کیا گیا جبکہ مقامی پولیس بھی ان افراد کی حراست سے متعلق لاعلمی کا اظہار کر رہی ہے۔

سٹی پولیس افسر راجہ رفعت کے مطابق ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم پاکستانی ہیں اور اگر وہاں کوئی غیر ملکی طالب علم ہے بھی تو پولیس کے پاس اس کے پورے کوائف ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مدرسہ مُظاہر العلوم اور انوارالعلوم سن دو ہزار دو میں ایم ایم اے کی نشست سے قومی اسمبلی کے منتخب رکن قاضی عبدالحمید کے تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ طالبان رہنما ملا عمر کے استاد تھے۔ قاضی عبدالحمید دو سال قبل وفات پا چکے ہیں۔

اسی بارے میں