’ملزم نے اعترافِ جرم کیا نہیں، کروایا گیا ہے‘

Image caption اسلام آباد پولیس سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے مقدمے میں پہلے بھی دو افراد کو مرکزی ملزم قرار دے چکی ہے

اسلام آباد پولیس نے فوج کے سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ اور سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والے ملزم حماد عادل کے گھر سے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کے قاتل کی لاش برآمد کی ہے۔

اس لاش کو ملزم کی نشاندہی پر اُس کے گھر کے صحن سے برآمد کیا گیا۔ یاد رہے کہ چوہدری ذوالفقار کو چند ماہ قبل اسلام آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا تاہم سرکاری وکیل کی فائرنگ سے دو حملہ آور زخمی ہوگئے تھے۔

ان حملہ آوروں میں سے ایک ملزم عمر عبداللہ کو پولیس نے راولپنڈی کے ایک نجی ہسپتال سے گرفتار کرلیا تھا۔ اس واقعے کے دوران ملزم عمر عبداللہ کو کمر میں گولی لگی تھی جبکہ اُس کے والد نے راولپنڈی میں مقدمہ درج کروایا تھا کہ اُن کا بیٹا گھر میں ہونے والی ڈکیتی میں ڈاکوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا۔

ملزم عبداللہ ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

ایس پی صدر جمیل ہاشمی کے مطابق سابق وزیر اعظم کے قتل کی پیروی کرنے والے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کے محافظ کی فائرنگ سے ملزم حارث بھی زخمی ہوگیا تھا جسے ملزم حماد عادل اپنے گھر لے گیا جہاں پر اُس کا نجی ہسپتال میں زیر علاج رہا۔

اُنہوں نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم حارث ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا اور ملزم حماد نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ملکر حارث کو اپنے گھر کے صحن میں ہی دبا دیا۔

ایس ایس پی صدر کے مطابق چوہدری ذوالفقار کے قتل کے مقدمے کا تیسرا ملزم تنویر ہے جو کہ کالعدم تحریک طالبان پنجاب کا اہم رہنما بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہونے والے شدت پسندی کے دیگر مقدمات میں پولیس اور قانون نافد کرنے والے اداروں کو مطلوب ہیں اور عدالتوں نے اُنہیں اشتہاری بھی قرار دیا ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم حماد اور ملزم تنویر مل کر شدت پسندی کی کارروائیاں کرتے تھے اس کے علاوہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان جڑواں شہروں میں جو کارروائیاں کرتے تھے حماد عادل کو پہلے سے ہی آگاہ کردیا جاتا تھا۔ ملزم حماد عادل پنجاب پولیس میں تعینات ایس ایس پی رینک کے افسر کامراں عادل کے بھائی ہیں۔ اسلام آباد کے اعلیٰ حکام ملزم حماد کی گرفتاری کو اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اس سے وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات بڑی حد تک مکمل ہوجائیں گی۔

اس سے قبل اسلام آباد کی پولیس نے ملزم حماد عادل کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ملزم کو ابتدا میں تھانہ بارہ کہو میں امام بارگاہ کے باہر خودکش حملے کی کوشش کرنے والے حملہ آور کو بارود دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم اب پولیس کےمطابق اس نے دورانِ تفتیش اہم حملوں کی منصوبہ بندی کا بھی اعتراف کیا ہے۔

تاہم ان مقدمات کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ملزم نےاعتراف جُرم کیا نہیں بلکہ اس سے یہ اعتراف کروایا گیا ہے۔

متعلقہ پولیس سٹیشن کےانچارج فیاض رانجھا کےمطابق ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ اُس نے ان واقعات کے ماسٹر مائنڈ محمد تنویر کے ساتھ مل کر عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی اور فوج کے سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

پاکستانی فوج کے سرجن جنرل راولپنڈی میں ایک خودکش حملے میں مارے گئے تھے جبکہ شہباز بھٹی کو اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔

ان دونوں واقعات کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ حماد کا ساتھی منصوبہ ساز محمد تنویر تحریک طالبان پنجاب کا ایک اہم رہنما ہے اور وہ دہشت گردی کے متعدد مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہے۔ پولیس کی اطلاعات کے مطابق وہ ان دنوں میران شاہ کے علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے مقدمے میں پہلے بھی دو افراد کو مرکزی ملزم قرار دے چکی ہے جنہیں دبئی سے گرفتار کر کے لایا گیا تھا۔ تاہم انسداد دہشت گردی کی متعقلہ عدالت نے اُنہیں عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ راولپنڈی پولیس سرجن جنرل کے قتل کے مقدمے میں ڈاکٹر عثمان عرف عقیل کو مرکزی ملزم قرار دے چکی ہے جنہیں جی ایچ کیو پر حملے کے مقدمے میں موت کی سزا سُنائی جا چکی ہے اور وہ ان دنوں فیصل آباد کی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم حماد نے ان دونوں حملوں کے علاوہ اسلام آباد میں ڈنمارک سفارت خانے پر حملے، سپر مارکیٹ میں واقع ایک ریستوران اور روات میں نیٹو کے کنٹینرز پر حملہ کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے فارم ہاؤس کے باہر بارود سے بھری گاڑی کھڑی کرنے کا بھی اعتراف کیا۔

پولیس افسر کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا کہ اُن کا پہلا ہدف پرویز مشرف کو بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں پیشی کے موقع پر ٹارگٹ کرنا اور اس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کو نشانہ بنانا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی میں بارود بھرنے میں ایوان صدر کے عقب میں واقع آبادی کے ایک شخص شوکت زمان نے مدد فراہم کی تھی جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ادھر اس مقدمے کی تفتیش میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ملزم حماد نے اعتراف جُرم کیا نہیں بلکہ اس سے یہ اعترافات کروائے گئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ شہباز بھٹی کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کے لیے اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس میں آئی ایس ائی اور ایف آئی اے کے اہلکار بھی شامل تھے۔

اُنہوں نے بتایا کہ اس کیس میں جن دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اُن کی گرفتاری موقعۂ واردات پر موجود ایک عینی گواہ کے بیان کی روشنی میں عمل میں لائی گئی تھی۔

تھانہ بارہ کہو کے انچارج کا کہنا ہے کہ ملزم حماد کی جانب سے اب ان مقدمات کا اعتراف کرنے کے بعد اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسران کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں ان مقدمات کی تفتیش سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔