ملالہ یوسفزئی ایمنسٹی کی ’ضمیر کی سفیر‘

Image caption پاکستان کی وادی سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسف اب برطانیہ میں مقیم ہیں

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس برس ’ضمیر کے سفیر‘ کا عالمی ایوارڈ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی اور امریکی گلوکار اور سماجی کارکن ہیری بیلافانٹے کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ ایوارڈ منگل کی شام آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں ایک تقریب میں پیش کیا جائے گا۔ ’ضمیر کا سفیر‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم کے مطابق یہ ایوارڈ اُن چنندہ افراد کی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے جو انسانی حقوق کی بالادستی کے لیے عملی زندگی میں نہ صرف کام کرتے ہیں بلکہ مثالیں بھی قائم کرتے ہیں۔

ماضی میں یہ عالمی ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں جنوبی افریقی رہنما نیلسن منڈیلا اور برما میں جمہوریت کی خاطر زندگی وقف کر دینے والی سیاستدان آنگ سان سوچی سمیت دنیا کی کئی نامور شخصیات شامل ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل سلیل شیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارے دونوں نئے ضمیر کے سفیر اگرچہ کئی حوالوں سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر ان دونوں میں ہی قدر مشترک یہ ہے کہ انہوں نے ہر جگہ اور سب کے لیے انسانی حقوق کی جدوجہد کی خاطر خود کو وقف کر دیا ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ملالہ اور ہیری ضمیر کے سچے سفیر ہیں جو عالمی حقوق، انصاف اور انسانی عظمت کے لیے بات کر رہے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی قابل تقلید مثال قائم کر رہے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کےایک اعلامیے کے مطابق ملالہ یوسف زئی نے ضمیر کے سفیر کے ایوارڈ کے لیے منتخب ہونے پر کہا ہے کہ اس اعزاز پر ان کی واقعتاً حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور وہ اس موقع پر دنیا کے ہر شخص کو یہ یاد دلانا چاہتی ہیں کہ دنیا میں ان کی طرح ایسے لاکھوں بچے ہیں جو ہر روز اپنے سکول جانے کے حق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔

امریکی گلوکار اور سماجی کارکن ہیری بیلافانٹے نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ انہیں یہ ایوارڈ ملالہ یوسف زئی کے ساتھ مل رہا ہے جو کہ ان کے بقول اس دور کی اصل ہیرو ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملالہ کے لیے ان کی ستائش اور تحسین نہ ختم ہونے والی ہے کیونکہ ملالہ نے دنیا میں جبر کے خلاف جدوجہد کا عزم بیدار کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس نے اپنے اس اعزاز کو ’ضمیر کے سفیر‘ کا نام نوبیل انعام یافتہ آئرش شاعر شیمس ہینی کی ایک نظم سے متاثر ہو کے دیا تھا جس کا عنوان ’فرام دا ری پبلک آف کانشئنس‘ سے تھا۔

شیمس ہینی کو بھی اس تقریب میں شریک ہونا تھا مگر دو ہفتے پہلے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ہینی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی یہ نظم ایوارڈ کی تقریب میں پڑھی جائے گی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ملالہ یوسف زئی کو ہالینڈ کی تنظیم ’کڈز رائٹس فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے ’انٹرنیشنل چلڈرنز پیس پرائز‘ بھی دیا گیا ہے۔

پاکستان کی وادی سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی کو خواتین کے لیے تعلیم عام کرنے کی کوششوں پر طالبان نے اکتوبر 2012 میں نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں زخمی ہونے کے بعد ان کا ابتدائی علاج پاکستان میں کیا گیا اور بعد میں انہیں برطانیہ منتقل کردیا گیا جہاں اب وہ مقیم ہیں۔

اسی بارے میں