کیا میڈیا کو پوچھنے والا کوئی نہیں؟

Image caption اگر چینلز قوانین اور صحافتی اقدار کو پامال کر رہے ہوں تو کیا پیمرا خود مداخلت نہیں کر سکتی؟

24 گھنٹے کا میڈیا سرکس تو اب جیسے پاکستانی عوام کے مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ ہر خبر کو ڈرامائی بلکہ فلمی رنگ دے کر ریٹنگ چڑھانے کی کوشش میں اخلاقیات کی ایسی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں کہ بڑے بڑے بےضمیر بھی شرما جائیں۔

حال ہی میں لاہور میں پانچ سالہ بچی سے زیادتی کو جس طرح میڈیا پر بیچنے کی کوشش کی گئی اس سے ایک مرتبہ پھر ذرائع ابلاغ کے ضابطۂ اخلاق کے بارے میں بحث گرم ہوگئی ہے۔

گزشتہ جمعرات کی رات سے شروع ہونے والے اس واقعے میں کم وپیش تمام چینلز نے پہلے تو نہ صرف بچی اور اس کے والدین کی شناخت ظاہر کی بلکہ انٹرویوز تک نشر کر ڈالے۔ پھر ایک دوڑ شروع ہوگئی کوئی پروگرام کرنے بچی کے رشتے داروں کے ہاں پہنچا تو کوئی خود معاملے کی تحقیقات کرنے لگا۔

کچھ چینلز نے اپنی سکرینوں پر پی جی یعنی ’پرینٹل گائیڈنس‘ لکھنے کا تکلف ضرور کیا اور یہ اعلان بھی کیا کہ کمزور دل والے اور بچے اس خبر کو نہ دیکھیں لیکن خبر میں سنسنی خیزی کو کم نہ کیا گیا۔

اعجاز احمد دو بچیوں کے والد ہیں وہ ایک سرکاری ملازم ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’میری دو بیٹیاں ہیں جس طرح سے یہ خبر نشر کی جا رہی ہے اس سے مجھے ذہنی اذیت کا سامنا کر پڑ رہا ہے۔ مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا میں اپنے بچوں کو کس طرح محفوظ رکھوں کہ وہ اسے دیکھ اور سن نہ سکیں۔‘

ماہر نفسیات فاطمہ سلیم کہتی ہیں ’اس خبر کا بار بار نشر ہونا بھی بچوں کو نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسی چیزیں دیکھ کر بچے خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ کو تجسس ہونے لگتا ہے۔ اور منفی رویے رکھنے والے بچے تو بار بار ایسے واقعات دیکھ کر بے حسی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔‘

تو یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ کیا میڈیا ایک منہ زور گھوڑا بن چکا ہے اور کوئی اسے پوچھنے والا نہیں؟ کیا صحافیوں کو شعور نہیں کہ وہ بچی کے لیے آواز بلند کرنے کے نام پر اپنے پیشہ وارانہ ضابطۂ اخلاق کی دھجیاں اڑا رہے ہیں یا پھر یہ سب ریٹنگ کی گیم ہے؟

جب یہ سوال ابلاغیات کے استاد ڈاکٹر شفیق جالندھری کے سامنے رکھا گیا تو ان کا کہنا تھا ’ضابطۂ اخلاق تو صحافیوں کا اپنا بنایا ہوا ہے اس سے لاعلمی کی بات تو سمجھ میں نہیں آتی۔ ہر ذی شعور شخص سمجھتا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو کوئی بھی اپنے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر بار بار دیکھنا نہیں چاہے گا تو اس سے ریٹنگ بڑھنے کے امکانات بھی بظاہر دکھائی نہیں دیتے۔ بس صحافیوں اور صحافتی اداروں کو اپنا کردار سوچ سمجھ کر ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘

ٹی وی چینلز کی حد تک ان معاملات کو دیکھنے کی ذمے داری پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی ہے۔ پیمرا کے ترجمان فخرالدین مغل کے مطابق ’ہم نے چینلز سے بذریعہ فون اور ایس ایم ایس رابطہ کیا اور ان سے یہ استدعا کی تھی کہ وہ بچی اور اس کے خاندان کی شناخت ظاہر نہ کریں اور اس حوالے سے عالمی سطح پر رائج صحافتی اقدار اور ضابطوں کا خیال رکھیں۔‘

سیلف ریگولیشن کے تحت خبروں کی نشر و اشاعت کے انداز کا فیصلہ تو چینلز کے اپنے ادارتی بورڈز کی ذمہ داری ہے لیکن اگر چینلز قوانین اور صحافتی اقدار کو پامال کر رہے ہوں تو کیا پیمرا خود مداخلت نہیں کر سکتی؟

اس پر فخرالدین مغل کا کہنا تھا کہ ’ہم اس قسم کی خلاف ورزیوں پر چینلز کو دس لاکھ تک جرمانہ کر سکتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ہم نے چھبیس چینلز کو جرمانے کیے لیکن کم وپیش سب ہی نے عدالت سے حکمِ امتناعی لے لیا۔‘

پیمرا کی ویب سائٹ پر شکایات کے لیے ایک حصہ بھی مخصوص کیا گیا ہے جہاں شہری کسی بھی پاکستانی چینل پر نشر ہونے والے مواد سے متعلق اپنے اعتراضات جمع کروا سکتے ہیں لیکن اس ویب سائٹ کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہمارے معاشرے میں ضابطۂ اخلاق کی تشریح محض ’فحاشی اور عریانی‘ تک ہی محدود ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم قوم ہیں یا تماشبین؟ ہم کسی کو انصاف دلانا چاہتے ہیں یا اپنے سیاسی اور تجارتی مفادات کے لیے کسی کے زخم پر دکانداری کر کے اسے بیچنا چاہتے ہیں یا پھر ہم ایک ہجوم ہیں جہاں شور مچا بھیٹر چال میں وہیں چل دیے۔

اسی بارے میں