’دہشتگردی کے خلاف ترکی کا تعاون درکار‘

Image caption حکمراں جماعت مسلم لیگ نون اور ترکی کے تعلقات میں گزشتہ کچھ سالوں میں گرمجوشی آئی ہے

وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان انتہا پسندی کی لعنت کے موثر خاتمے کے لیے ترکی کی مدد اور رہنمائی حاصل کرے گا۔

وزیراعظم نواز شریف نے منگل کو ترکی کے تین روزہ دورے کے موقع پر انقرہ میں ترک وزیر داخلہ معمر گلر اور دیگر اعلیٰ سیکورٹی حکام کے ساتھ ملاقات کے دوران بات چیت میں یہ بات کہی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف پیر کو ترکی پہنچے تھے اور اس سے ایک دن پہلے ہی پاکستان میں طالبان کے ایک بم حملے میں فوج کے میجرل جنرل ثنا اللہ خان سمیت تین اہلکار ہلاک ہو گئے تھے اور اسی دن کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان نے کہا تھا کہ مذاکرات سے قبل اگر حکومت قبائلی علاقوں سے فوج کو نکالتی ہے اور ہمارے قیدیوں کو چھوڑتی ہے تو تب سمجھیں گے کہ یہ حکومت بااختیار بھی ہے اور مخلص بھی ہے۔

اس کے ایک دن بعد پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سیاسی عمل کے ذریعے قیامِ امن کی کوششوں کو ایک موقع دینا سمجھ میں آتا ہے لیکن کسی کو اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ ’دہشتگرد ہمیں اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔‘

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو نواز شریف نے ترک حکام سے بات چیت کے دوران مزید کہا کہ ترکی سائبر جرائم کے خاتمے اور انتہا پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔

’ہماری حکومت ملک کو درپیش تمام چیلنجوں سے کامیابی سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان ترکی کے تعاون سے انسداد دہشت گردی کی موثر حکمت عملی پر عمل درآمد کرے گا۔‘

ترکی کے شہر استنبول کے گیزی پارک کے معاملے پر جون میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے اور اس وقت مظاہرین نے ترک حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ یہ حکومت مطلق العنانیت ہے اور سیکولر ریاست پر قدامت پسند اسلامی اقدار نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ نون سال دو ہزار آٹھ سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں حکمراں ہیں اور اس وقت سے اس کے ترک حکومت کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی آئی تھی اور اب مسلم لیگ نون وفاق میں بھی حکمراں ہے اس لیے جماعت کے سربراہ اور وزیراعظم نواز شریف نے چین کے بعد اپنے دوسرے سرکاری دورے کے لیے ترکی کا انتخاب کیا ہے۔ جبکہ اس دوران غیر سرکاری دورے پر سعودی عرب پر گئے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کی نو تاریخ کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے مسئلے پر بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس میں اس سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کی راہ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس کے بعد اتوار کو فوج کے میجر جنرل کی ہلاکت اور کالعدم تحریک طالبان کی مذاکرات سے قبل’شرائط‘ پیش کیے جانے اور اس کے بعد بری فوج کے سخت بیان کے بعد پاکستان کے ذرائع ابلاغ پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا کل جماعتی کانفرس کے ایجنڈے پر عمل درآمد ممکن ہو سکے گا اور کیا ایسے عناصر کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے جو اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ملک کے دستور نہیں مانتے ہیں۔

اسی بارے میں