’مکانات کو زبردستی خالی کرانے پر احتجاج‘

Image caption سکیورٹی فورسز نے ریگی للمہ میں پانچ سو کے قریب دکانوں اور بازاروں کو سیل کیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے ریگی للمہ میں مکانات کو زبردستی خالی کرانے پر متاثرہ افراد نے سکیورٹی فورسزکے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ کچھ عناصر ناجائز طور پر فوج کی اراضی پر قبضہ جمائے ہوئے تھے اور جب ان کو جگہ خالی کرنے کا کہا گیا تو انھوں نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ داخل کردی۔

ریگی للمہ کے متاثرین نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ ان کے مکانات اور زمینوں پر ناجائز قبضہ ختم کروانے کےلیے کارروائی کی جائے۔

ریگی للمہ ٹاؤن کے مالکان اور مکینوں نے منگل کو پشاور ہائی کورٹ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا جس میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی۔

مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر فورسز کی جانب سے اراضی پر ناجائز قبضہ ’نامنظور نامنظور’ کے نعرے درج تھے۔

اس موقع پر مظاہرین نے نعرہ بازی بھی کی اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ دوست محمد خان سے اپیل کی کہ فوج کی جانب سے ریگی کے مکینوں کو اپنے مکانات سے زبردستی بے دخل کیے جانے کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔

مظاہرین کے ایک رہنما سید عالم شاہ نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ دس دن قبل رات تین بجے اچانک سکیورٹی فورسز کے دستے ریگی للمہ کے حدود میں داخل ہوئے اور بغیر کسی پیشگی اطلاع یا نوٹس کے درجنوں مکانات مسمار کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کردیا۔

انھوں نے کہا کہ آپریشن کے نتیجے میں تقریباً پانچ سو کے قریب دکانیں، مکانات اور بازار سیل کیے گئے اور لوگوں کو ان کے گھروں سے زبردستی باہر نکال کر کئی افراد کو مبینہ طور پر تشدد بھی کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے بیشتر خاندان گزشتہ ستر سالوں سے اس علاقے میں رہائش پذیر اور ان کے پاس اپنی جائیدادوں کے قانونی دستاویزات بھی موجود ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو بے دخل کیا گیا۔

سید عالم شاہ کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے ان کےحق میں حکم امتنائی بھی جاری ہوا ہے لیکن اس کے باوجود سکیورٹی اہلکار عدالتی احکامات ماننے کےلیے تیار نہیں۔

انھوں نے کہا کہ جو دکانیں سیل کی گئی ہیں وہاں دوکانداروں کا اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جس کے خراب ہونے کا خطرہ ہے ۔

ان کے بقول سکیورٹی اہلکار سیل کیے گئے علاقے کے قریب کسی کو بھی نہیں چھوڑ رہے جس کی وجہ سے کئی خاندان دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

دریں اثناء فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ کچھ عناصر ناجائز طور پر فوج کی اراضی پر قبضہ جمائے ہوئے تھے اور جب ان کو جگہ خالی کرنے کا کہا گیا تو انھوں نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ داخل کردی۔

ترجمان نے کہا کہ ہائی کورٹ نے محکمہ ریونیو کو حکم جاری کیا کہ پہلے مقامی افراد کی موجودگی میں زمینوں کا سروے کروایا جائے اور پھر حدبندی کی جائے۔

ترجمان کے مطابق اس عمل کےلیے ناجائز قابضہ کرنے والے افراد کو نوٹس جاری کیے گئے کہ سات دنوں کے اندر اندر سرکاری املاک سے قبضہ ختم کیا جائے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مہلت ختم ہونے کے بعد لینڈ اینڈ ریونیو آرڈنینس کے تحت تجاوزات کے خاتمے کے لیے سول انتظامیہ کی مدد سے تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا اور یہ تمام عمل پرامن طریقے سے انجام دیا گیا۔

ترجمان نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ مقامی افراد کو فوج کے ذریعے زبردستی بے دخل کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں