’معاملہ سکیورٹی فورسز کا ہے، عدالت انتہائی اقدام نہیں چاہتی‘

Image caption بلوچستان بدامنی کیس میں عدالت کی توجہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر زیادہ مرکوز ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبہ بلوچستان میں بدامنی کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں لاپتہ افراد کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

’لاپتہ افراد کا معاملہ سب سے بڑا مسئلہ ہے‘

’لاپتہ افراد کے مسئلے میں شدت آئی ہے‘

پاکستان: 633 گمشدہ، 317 کا پتا ہی نہیں

’لاپتہ کیس میں ایف سی کے خلاف شواہد ہیں‘

منگل کو دوسرے روز بھی سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنیچ نے اس کیس کی سماعت کی۔

اس کیس میں صوبے میں امن و امان سمیت دیگر مسائل بھی شامل ہیں لیکن عدالت نے گذشتہ دو دن کی سماعت میں سب سے زیادہ توجہ صوبے میں لاپتہ افراد کے مسئلے پر مرکوز رکھی۔

سپریم کورٹ نے پیر کو اس کیس کی سماعت کے موقعے پر حکام کو ہدایت کی تھی کہ 61 کیسوں میں لاپتہ افراد کو منگل کو سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش کیا جائے لیکن حکام کی جانب سے کسی ایک کو بھی عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔

سماعت کے موقع پر وفاق کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ شاہ خاور نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو مزید مہلت دی جائے لیکن عدالت نے صرف ایک دن، یعنی صرف بدھ تک کی مہلت دی ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عدالت کے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے مطابق’ ہم لاپتہ افراد کے مسئلے پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتے اور کسی کو بھی کسی شخص کو لاپتہ کرنے کا اختیار نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کرائے گی تو عدالت ان کے خلاف کارروائی کا کہےگی جو لوگوں کو لاپتہ کرنے میں ملوث ہیں اور یہ انتہائی اقدام ہوگا جس پر عدالت نہیں جانا چاہتی، کیونکہ اس میں سکیورٹی فورسز کا معاملہ ہے اور فورسز اور پولیس کے اہلکار عدالتوں میں پیشی کے لیے آئیں گے تو ان کے مورال میں کمی آئے گی۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ پہلے اس کیس کی سماعت کے موقعے پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی تھی لیکن اب ان کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ مایوس ہو چکے ہیں۔

گذشتہ ماہ اس کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ملکی ادارے کام کرتے رہیں گے تو بلوچستان کے لوگوں کو مایوسی نہیں ہوگی۔

اس سے پہلے بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے بی بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں تسلیم کیا تھا کہ حالیہ دنوں میں صوبے میں لاپتہ افراد کے مسئلے میں شدت آئی ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ہمارے صوبے کو درپیش سب سے بڑا مشکل مسئلہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشوں اور لاپتہ افراد کا ہے۔

رواں سال مارچ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر سے چھ سو سے زائد افراد ابھی تک جبری طور پر گمشدہ ہیں جن کے زندہ یا مردہ ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

صوبہ بلوچستان میں 2006 میں فوجی صدر مشرف کے دورِ حکومت میں بلوچ قوم پرست رہنما کی ہلاکت کے بعد امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی ہے اور اس دوران صوبے سے لوگوں کے لاپتہ ہونے اور بعد میں بعض کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات پیش آنا شروع ہوئے۔

اس کے علاوہ گذشتہ دنوں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سے بھی بلوچ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

صوبے میں لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات کے خلاف کئی بار احتجاج مظاہرے شروع ہو چکے ہیں اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ متعدد بار الزام عائد کر چکے ہیں کہ سکیورٹی اداروں نے ان کے پیاروں کو اغوا کیا۔

صوبے میں لاپتہ افراد کے مسئلے پر حقوق انسانی کی تنظیمیں متعدد بار اپنا احتجاج کر چکی ہیں۔

اسی بارے میں